شیر افضل مروت کا بڑا اعلان، سہیل آفریدی کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

شیر افضل مروت کا بڑا اعلان، سہیل آفریدی کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

قومی اسمبلی کے رکن شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ سہیل آفریدی کے بطور وزیرِ اعلیٰ انتخاب کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ اپنے تازہ بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اب کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے نامزدگی کو چیلنج کیا جائے گا۔

شیر افضل مروت کے مطابق خیبرپختونخوا میں موجودہ طرزِ حکمرانی نے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور خراب گورننس کے اثرات ہر شعبے میں واضح ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے ہیلتھ سیکٹر اور اسپتالوں میں سنگین بے ضابطگیاں موجود ہیں جہاں کم قیمت پر ادویات کی خرید و فروخت جیسے معاملات سامنے آ رہے ہیں جو بدعنوانی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے انہیں انتخاب کو چیلنج نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم اب وہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے باضابطہ قانونی چیلنج دائر کریں گے۔ ان کے بقول پارٹی اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں یہ قدم ضروری ہو چکا ہے۔

یہ بھی بنائیں:بشریٰ بی بی کو29 مقدمات میں ضمانت سے متعلق عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

شیر افضل مروت نے اپنی قانونی دلیل دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بمقابلہ نواز شریف کیس میں عدالت عظمیٰ واضح کر چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص جیل سے سیاسی یا تنظیمی احکامات جاری نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اسی اصول کے تحت بعض حالیہ سیاسی فیصلوں اور نامزدگیوں کو بھی جانچا جانا چاہیے۔

انہوں نے سلمان اکرم راجہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر بعض نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا جسے وہ عدالت میں چیلنج کریں گے۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں لیکن سہیل آفریدی کو قیادت میں لانے کا فیصلہ پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی موجودگی نے پارٹی کی مزاحمتی سیاست کو کمزور کیا اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو جماعت مزید تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles