سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر زیرِ زمین پانی نکالنے سے نہ صرف پانی کے ذخائر متاثر ہوئے بلکہ زمین کی گردش پر بھی اثر پڑا ہے۔
سیئول نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر کی وون سیو کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے مطابق 1993 سے 2010 کے درمیان انسانوں نے زمین کے اندر موجود 2 ہزار 150 گیگا ٹن سے زیادہ پانی نکالا۔ پانی کی اتنی بڑی مقدار کی منتقلی نے زمین کے گردشی محور کو بھی تبدیل کر دیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ زیرِ زمین پانی کے اخراج کی وجہ سے زمین کا گردشی محور مشرق کی جانب تقریباً 31.5 انچ، یعنی ہر سال تقریباً 1.7 انچ تک سرک گیا۔محور
ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال سمندری سطح میں اضافے کا بھی ایک اہم سبب بنا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے عوامل میں زمین کے قطبی محور کے جھکاؤ پر اس کا اثر سب سے زیادہ دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق زیرِ زمین پانی کے سب سے زیادہ ذخائر مغربی شمالی امریکا اور شمال مغربی بھارت کے علاقوں سے کم ہوئے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ انسانی سرگرمیاں صرف قدرتی وسائل کو ختم نہیں کر رہیں بلکہ پوری زمین کے نظام پر بڑے پیمانے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔