سعودی عرب نے پاکستان سے آئی ٹی شعبے کیلئے پاکستان سے افرادی قوت مانگ لی، قطر کا پاکستان میں آئی ٹی پارک تعمیر کرنے کا اعلان۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب اور قطر کے حوالے سے کابینہ اجلاس میں تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان سے آئی ٹی کے شعبے کے لیے مزید افرادی قوت کی درخواست کی ہے جبکہ قطر پاکستان میں ایک جدید آئی ٹی پارک قائم کرنے جا رہا ہے۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی حکومت کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے پاکستان کی ترقی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے سولر، مائنز اینڈ منرل، ایگری کلچر اور دیگر باہمی مفادات پر تفصیلی گفتگو کی اور اپنی سرمایہ کاری ٹیم بھیجی، جس سے ملاقاتیں کی گئیں۔
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد نے پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے حوالے سے مثبت تبادلہ خیال کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو آئی ٹی شعبے کے لیے لیبر بھیجنے کی درخواست کی۔ محمد بن سلمان کے مطابق سعودی عرب میں آئی ٹی کے شعبے میں بے پناہ گنجائش موجود ہے اور آئندہ برسوں میں اس شعبے میں لاکھوں افراد کی ضرورت پڑے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب میں یہ ملاقاتیں کامیاب رہیں اور اس کے نتیجے میں ایک وفد سعودی عرب روانہ ہو گا جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذکورہ شعبوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔
وزیراعظم نے قطر کے دورے کو بھی مفید قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امیر قطر سے وفود کی سطح پر اور ون آن ون ملاقاتیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطر کی جانب سے ماضی میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ نتیجے کے طور پر قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی ایک ٹیم اپنے چیئرمین کی قیادت میں رواں ماہ پاکستان آئے گی اور مائنز اینڈ منرل اور آئی ٹی کے حوالے سے بات چیت کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امیر قطر نے پاکستان میں ایک آئی ٹی پارک قائم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، جو پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کو مزید ترقی دینے میں مددگار ثابت ہو گا۔
ان دونوں دوروں کے دوران سعودی عرب اور قطر سے پاکستان کو اہم سرمایہ کاری کے مواقع ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر آئی ٹی، سولر، مائنز اینڈ منرل اور ایگری کلچر کے شعبوں میںسرمایہ کاری آئیگی۔ وزیراعظم نے کابینہ کو یقین دلایا کہ ان ملاقاتوں کے نتائج سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔