چرس استعمال کرنے والوں کوملاریلیف،سپریم کورٹ کا انوکھا فیصلہ

چرس استعمال کرنے والوں کوملاریلیف،سپریم کورٹ کا انوکھا فیصلہ

امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک اہم اور متفقہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف چرس (ماریجوانا) استعمال کرنے کی بنیاد پر کسی شخص کو اسلحہ رکھنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ ریاست ٹیکساس کے رہائشی علی ہیمانی کے مقدمے میں سنایا، جن کے خلاف وفاقی حکام نے اس بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہ چرس استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اسلحہ بھی رکھتے ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق علی ہیمانی نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ہر دوسرے دن چرس استعمال کرتے ہیں، تاہم گرفتاری کے وقت وہ نہ نشے کی حالت میں تھے اور نہ ہی ان کے پاس اسلحہ استعمال کرنے کا کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا نایاب زیبرا جس کے جسم پر دھاریاں نہیں،منفرد راز سامنے آگیا

سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے خلاف عائد فردِ جرم کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ حکومت محض چرس کے استعمال کی بنیاد پر کسی شہری سے اسلحہ رکھنے کا آئینی حق نہیں چھین سکتی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پابندی عائد کرنے کے لیے حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ شخص اسلحے کی موجودگی کے باعث عوامی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منشیات استعمال کرنے والوں کو بلاشرط اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ منشیات کے عادی افراد یا نشے کی حالت میں اسلحہ رکھنے والوں پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :راجستھان سے دوگنا بڑا برفانی حصہ غائب، دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

عدالت نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ایسے مقدمات پر لاگو نہیں ہوگا جہاں کسی شخص نے خود منشیات کا عادی ہونے کا اعتراف کیا ہو، جیسا کہ سابق امریکی صدر کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن کے کیس میں سامنے آیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا کی 40 سے زائد ریاستوں میں ماریجوانا کو طبی یا تفریحی مقاصد کے لیے کسی نہ کسی شکل میں قانونی حیثیت حاصل ہے، تاہم وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ منشیات کی فہرست میں شامل ہے۔

editor

Related Articles