آئندہ وفاقی بجٹ میں آٹو انڈسٹری کو فروغ دینے اور مقامی سطح پر سستے آٹو پارٹس کی تیاری کے لیے اہم ٹیکس ریلیف دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی کو ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی کے ڈی (سی کے ڈی) کٹس پر نان لوکلائزڈ پارٹس کے لیے 5 فیصد جبکہ لوکلائزڈ پارٹس کے لیے 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو بڑھانا اور آٹو انڈسٹری کو مزید ترقی دینا ہے۔
علاوہ ازیں الیکٹرک وہیکل پالیسی کے دائرہ کار کو بیٹری الیکٹرک گاڑیوں سے بڑھا کر تمام نیو انرجی وہیکلز تک وسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس میں ای وی، پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور فیول سیل گاڑیاں شامل ہوں گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مقامی مینوفیکچررز کو الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور گاڑیوں کی محدود تعداد اسمبل کرنے پر خصوصی رعایت دی جائے گی۔ ہر کمپنی کو 100 گاڑیوں تک رعایتی ڈیوٹی کی سہولت دینے کی تجویز ہے جو کہ 30 جون 2027 تک مؤثر رہے گی۔
اس اقدام سے مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور سستے اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل آٹو پارٹس کی تیاری میں آسانی ہوگی، جس کا فائدہ صارفین اور مقامی صنعت دونوں کو ہوگا۔