امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اہم مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مذاکرات مقررہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔
سوئس وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مذاکرات کے التوا یا تبدیلی کی وجوہات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم اس پیش رفت نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس سے قبل سوئس حکام نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونا تھا۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا تھا۔
سوئس وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں امریکا اور ایران کے مندوبین کے علاوہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع تھی، تاہم تازہ صورتحال کے بعد اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے دورے اور مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تہران اب بھی مذاکراتی عمل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہوں گے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکراتی عمل کی انتظامی اور عملی تفصیلات ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہو سکیں جس کے باعث دورہ مؤخر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل جے ڈی وینس نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئندہ تکنیکی مذاکرات کے منصوبے کو ابھی حتمی شکل دینا باقی ہے تاہم امریکی وفد مذاکرات کے لیے دستیاب پہلے موقع پر روانگی کے لیے تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں اور ان کی لاجسٹک و سفارتی نوعیت کے باعث پیش رفت کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا۔