بجٹ ریلیف کہاں گیا ؟ مرغی کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ

بجٹ ریلیف کہاں گیا ؟ مرغی کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ

وفاقی اور صوبائی بجٹ میں پولٹری مصنوعات پر کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہ کیے جانے کے باوجود جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مرغی کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث شہریوں کو ایک بار پھر مہنگائی کے نئے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق مرغی منڈی میں زندہ مرغی کا ہول سیل ریٹ بڑھ کر 12 ہزار 400 روپے فی من تک پہنچ گیا ہے جبکہ بجٹ پیش ہونے سے قبل یہی ریٹ 11 ہزار 200 روپے فی من تھا۔ چند ہی دنوں میں قیمتوں میں ہونے والے اس نمایاں اضافے نے نہ صرف کاروباری حلقوں بلکہ عام صارفین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولٹری فارم مالکان اور متعلقہ کاروباری حلقوں کی جانب سے گزشتہ چند روز سے قیمتوں میں اضافے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا جس کے نتیجے میں منڈیوں میں نرخ تیزی سے اوپر جانے لگے۔ تاجروں کے مطابق طلب اور رسد کے درمیان فرق بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم صارفین اس جواز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

مرغی منڈی میں نرخ بڑھنے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی قیمتوں نے پر لگا لیے ہیں۔ چند روز قبل تک 265 روپے فی کلو فروخت ہونے والی مرغی اب بڑھ کر 340 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں ریلیف کے دعوؤں کے باوجود روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مرغی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نوٹس لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی مہنگائی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اگر پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو آنے والے دنوں میں مرغی عام صارف کی پہنچ سے مزید دور ہو سکتی ہے جس کے اثرات خوراک کے مجموعی اخراجات پر بھی مرتب ہوں گے۔ عوامی حلقوں نے قیمتوں کے تعین کے نظام کو مؤثر بنانے اور مارکیٹ میں شفافیت لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

editor

Related Articles