تعلیمی سمجھوتہ، پشاور یونیورسٹی کا آمدن کو معیار پر ترجیح

تعلیمی سمجھوتہ، پشاور یونیورسٹی کا آمدن کو معیار پر ترجیح

اضافی اخراجات پر قابو پانے کے بجائے پشاور یونیورسٹی نے مالی بحران کا حل، فیکلٹی کی عدم موجودگی اور اختیارات نہ ہونے کے باوجود نئے کورسز متعارف کرانےاور زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخلے دینے کی صورت میں نکال لیا۔

یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور فارمیسی نے طلبہ کے مستقبل سے کھیلتے ہوئے 11 نئے کورسز متعارف کرادئیے جس میں طلبہ کو داخلے بھی دیدئیے گئے ہیں جبکہ ہر ایک کورس میں دو سیشنز میں 100 طلبہ کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے ۔ شعبہ کمپیوٹر سائنس نے نئے پروگرامز میں سائبر سکیورٹی، آرٹیفیشل انٹلیجنس ، ڈیٹا سائنس اور سافٹ وئیر انجنیئرنگ چار سالہ بی ایس پروگرام متعارف کردیا، چاروں پروگرامز میں 4 ہزار 680 طلبہ نے اپلائی کررکھا ہے جبکہ فارمیسی نے 7 نئے پروگرامزمیں 700 سیٹیں مختص کرتے ہوئے ایک سمیسٹر کی فیس 70 ہزار روپےمقرر کردی ہے۔

صوبائی حکومت نے صوبہ بھر کے جامعات کو 31 اکتوبر 2024 کو گرانٹ ان ایڈ دینے سے معذرت کرتے ہوئے لیٹر ارسال کیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کنٹرول کریں ، ملازمین کی اپ گرڈیشن نہ کریں، غیر ضروری الاونسز نہ دیں، نئے تقرریوں سے اجتناب کریں، محکمہ فنانس سے منظوری لئے بغیر نان فیکلٹی پوسٹ تخلیق نہ کریں ، بجلی کو سولر پر منتقل کرنے سمیت مختلف شعبوں میں طلبہ کے داخلوں کی تعداد کو بہتر بنأنےکی ہدایت کی ہے جبکہ جامعات کوایسے ان لائن پروگرامز شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ آمدن حاصل کیا جا سکے۔

تاہم حکومتی احکامات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پشاور یونیورسٹی نے شعبہ فارمیسی میں اس سال پہلی مرتبہ فارمیسی کیساتھ ساتھ 7 نئے چار سالہ بی ایس پروگرامز کو متعارف کرادیا جس میں سرجیکل ٹٰکینالوجی، میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی، بی ایس کارڈیالوجی، بی ایس ریڈیالوجی، ایمرجنسی میڈیسن، ڈاکٹر اپٹومیٹری، ڈینٹل ٹٰکینالوجی اور ہیلتھ سائنسزشامل ہیں اور ہر ایک پروگرام کے دو سیشنز میں 100 طلبہ کو داخلے دئیے جائیں گے جس کیلئے 70 ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔ لیکن یونیورسٹی کے پاس عملہ کی کمی کیساتھ ساتھ الائیڈ سائنسز پروگرامز کیلئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے الحاق تک نہیں کیا نہ ہی ان کے پاس جدید لیب اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور نے یونیورسٹی آف پشاور کے وائس چانسلر کو تین اکتوبر کو شعبہ فارمیسی کی جانب سے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے پروگرامز شروع کرنے پر لیٹر ارسال کیا کہ پہلے کے ایم یو کے ساتھ الحاق ضروری ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو مستقبل میں طلبہ کو مسائل درپیش ہوسکتے ہیں اس حوالے سے قانون اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے لیکن پشاور یونیورسٹی نے اس کو یکسر نظر انداز کردیا۔

شعبہ فارمیسی کے پروفیسر ڈاکٹر فضل ناصر نے رابطے کرنے پر بتایا کہ ہر ایک پروگرام کیلئے 22 سو سے لیکر 23 سو طلبہ نے اپلائی کیا جس میں سے ہر ایک پروگرام کیلئے سو سو طلبہ کو داخلے دینے کا عمل تقریبا 97 فیصد مکمل ہوچکا ہے، ان کے مطابق نئے پروگرامز کی منظوری یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے دی ہے اور الائیڈ ہیلتھ پروفیسنلز کونسل سے اس کا ایکرڈیشن لیا جائے گا ۔ انہوں نے عجیب منطق دیتے ہوئے کہا کہ نئے کورسز کیلئے زیادہ فیکلٹی کی ضرورت نہیں ہے جبکہ پہلے دو سمیسٹر ایک جیسے ہوتے ہیں جس کیلئے ماہر ٹیچر کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔

اسی طرح یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس نے بھی امدن بڑھانے کیلئے ماہر فیکلٹی نہ ہونے کے باوجود چار نئے چار سالہ بی ایس پروگرامز شروع کرلئے جس میں سائبر سکیورٹی بھی شامل ہے ہر ایک کورس میں ٹیکنکل مضامین ہوتے ہیں جو اس کے ایکسپرٹ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں سیکھا سکتے جیسے سائبر سکیورٹی کے کئی مضامین ٹیکنیکل ہے اس میں سے ڈیجٹیل فارنزک، ایتکل ہیکنگ، ریورس انجنیئرنگ، مالوئیر انالیسیز، پینٹریشن ٹیسٹنگ شامل ہیں اسی طرح دیگر نئے متعارف کردہ کورسز کے بھی کچھ مضامین ایسے ہیں جو اس کے ایکسپرٹ کے بجائے کوئی دوسرا نہیں سیکھا سکتا ، موجود ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے پاس موجود 17 فیکلٹی ممبران میں سے 2 پروفیسرز، ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، 9 اسسٹنٹ پروفیسرز اور 5 لیکچررز ہیں جن میں سے ایک بیرون ملک مقیم ہوگیا ۔ مذکورہ فیکلٹی ممبران میں سے
آرٹی فیشل انٹیلجنس کے تین فیکلٹی ممبران، ڈیٹا سائنس 1 اور سافٹ وئیر انجنیئرنگ کا بھی ایک فیکلٹی ممبرسیکھا سکتا ہے جن کی تعلیم اس سے متعلقہ ہے جبکہ سائبر سکیورٹی کا کوئی بھی ماہر استاد موجود نہیں ہے
سائبر سکیورٹی پروگرام کیلئے اوپن میرٹ پر 1 ہزار 170 امیدواروں ، ضم اضلاع کے سیٹوں پر 30، پنجاب سے 4، یونیورسٹی ملازمین کے بچوں کیلئے مختص کوٹہ پر 18، بلوچستان 8 اورسندھ سے ایک ، افغانستان سے 6، اقلیتی دو جبکہ ازاد جموں کمشیر سے ایک طلبہ نے اپلائی کر رکھا ہے ، ارٹی فیشل انٹلیجنس میں 1 ہزار 726 طلبہ نے اوپن میرٹ میں ، قبائلی اضلاع کے سیٹوں پر 54، ملازمین کوٹہ پر 25، پنجاب 5، اقلیت 4، افغان 10، بلوچستان 7، سندھ 1، جموں کشمیر 1، سافٹ وئیر انجنیئرنگ پروگرام کیلئے اوپن میرٹ پر 1142 ،قبائلی اضلاع کیلئے مختص سیٹوں پر 44، پنجاب 4، ملازمین کے بچوں کیلئے مختص کوٹہ پر20، اقلیت 3، افغان 7، بلوچستان 3، سندھ ایک، ڈیٹا سائنس پروگرام میں اوپن میرٹ پر935، قبائلی اضلاع کے سیٹوں پر 20، پنجاب 5، ملازمین کوٹہ پر 13، بلوچستان 9، افغان 4 اور اقلیت سیٹ پر ایک طالبعلم امیدوارہے۔

اس متعلق جب پشاور یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہ خسرو سے رابطہ کیا گیا اور ان سے سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کسی بھی سوال کا جواب دینے کے بجائے موقف اختیار کیا کہ یہ کورسز انہوں نے نہیں بلکہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمشن نے مشتہر کئے ہے لہذا ان سے سوالات پوچھے جائے۔ لیکن جب ڈائریکٹر ایڈمیشن یاسر شہزاد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کورسز تو ڈیپارٹمنٹ نے خود ہی شروع کرلئے ہیں انہیں یہ نہیں معلوم کے ڈیپارٹمنٹ کے پاس عملہ موجود ہے یا نہیں تاہم ہر ایک پروگرام میں سو سیٹیں ہے اور ہر ایک کورس کی فیس بھی ایک جیسی ہے۔

طریقہ کار کے مطابق ہر ایک کورس یونیورسٹی کے اکیڈمک کونسل سے منظور ہونے کے بعد اس کا نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن اکریڈیشن کونسل ( این سیک ) سے ایکرڈیشن لینا ہوتا ہے ۔ این سیک انفرسٹرکچر، فیکلٹی سمیت ہر ایک پہلو کا جائزہ لینے کے بعد ہی ایکرڈیشن دیتی ہے ۔ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر اظہر روف کے مطابق این سیک کا ایکرڈیشن لازمی ہوتاہے جس کیلئے اپلائی کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں ماہر لوگوں کی کمی نہیں اوربوقت ضرورت ان کی تقرری ہوگی لیکن ریکارڈ کے مطابق ابھی تک تو کمپیوٹر سائنس کے پاس بھی این سیک کی ایکرڈیشن نہیں ہے جبکہ نئے متعارف کردہ کورسز کی بھی بلڈنگ ، فیکلٹی اور لیب نہ ہونے کی وجہ سے ایکرڈیشن نہیں ہوسکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *