پاکستان کی سلامتی کے خلاف بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر کے جواب میں پاک فضائیہ نے ایک انتہائی مؤثر اور درست انٹیلی جنس پر مبنی فضائی آپریشن انجام دیا ہے۔ اس کارروائی میں افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود ‘فتنہ الخوارج’ (تحریکِ طالبان پاکستان) کے عسکری تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اہم دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ حملہ ان مستند اطلاعات کے بعد کیا گیا کہ دہشت گرد ان ٹھکانوں کو پاکستان کے اندر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ پاک فضائیہ کے طیاروں نے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں، اسلحہ کے گوداموں اور ٹھکانوں کو ٹھیک نشانے پر ہٹ کیا، جس سے تنظیم کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
فضائی حملے میں فتنہ الخوارج کے اہم تربیتی مراکز مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔حملے میں ہلاک ہونے والوں میں کئی ہائی پروفائل دہشت گردوں اور ٹرینرز کی موجودگی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کارروائی سے دہشت گردوں کی لاجسٹک سپلائی لائن اور حملوں کی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
پاکستانی حکام نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے بھی افغان عبوری حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، بصورتِ دیگر پاکستان اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ “عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔