پیاس یونیورسٹی(پاکستان اٹامک انرجی کمیشن) اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سائنسی تربیتی پروگرام کے تحت پاکستان کی نمائندگی کرنے والے صالح آصف کی بڑی کامیابی، فوربز ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل

پیاس یونیورسٹی(پاکستان اٹامک انرجی کمیشن) اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سائنسی تربیتی پروگرام کے تحت پاکستان کی نمائندگی کرنے والے صالح آصف کی بڑی کامیابی، فوربز ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام پیاس یونیورسٹی (پی اے ای سی) اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سائنسی تربیتی پروگرام کے تحت پاکستان کی نمائندگی کرنے والے صالح آصف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے معروف میگزین ’فوربز‘ نے ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

چھبیس(26) سالہ صالح آصف نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف ارب پتیوں کی صف میں جگہ بنائی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام بھی روشن کیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق ان کی مجموعی دولت تقریباً ایک ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 362 ارب روپے بنتی ہے۔

صالح آصف  کراچی سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی سے ہی حاصل کی ، غیرمعمولی ذہانت کے حامل صالح نے 2016 سے 2018 تک انٹرنیشنل میتھ اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور بعد میں  میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے گریجویشن مکمل کی۔

تعلیم کے دوران ہی انہوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھا اور بعد میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ’اینِی سفیئر‘ نامی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کی قیمت اب قریباً 60 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اس کمپنی کی سے نمایاں پروڈکٹ ’کرسر‘ ہے، جو ایک جدید اے آئی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول ہے، آج یہ ٹول دنیا بھر میں ہزاروں کمپنیوں اور لاکھوں ڈویلپرز استعمال کر رہے ہیں، جن میں ’این ویڈیا‘، ’ایڈوب‘، ’اوبر‘ اور ’شاپیفائی‘ جیسے بڑے برینڈ بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود کی بندش ، بھارت کیلئے بڑی معاشی ضرب ثابت

رپورٹس کے مطابق سال 2025 میں کمپنی کی ویلیوایشن قریباً 29 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی جبکہ اس کا سالانہ ریوینیو ایک ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا تھا، جو اسے دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے اے آئی سٹارٹ اپس میں شامل کرتا ہے۔

مزید براں  معروف امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ ممکنہ شراکت داری کے بعد ان کی کمپنی کی مالیت 60 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے،  مسک کی کمپنی ’سپیس ایکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپیس ایکس اے آئی اور کرسر اے آئی اب دنیا کی بہترین کوڈنگ اور نالج ورک اے آئی تیار کرنے کے لیے قریبی طور پر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اے آئی انڈسٹری میں ان کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں اور نہ صرف عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ قیادت کرنے کی بھی قابلیت رکھتے ہیں۔

ایسے تمام نوجوان جو بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند ہیں وہ نیچے دیئے گئے لنک پر کے ذریعے رجسٹریشن کرکے ایس ٹی ای ایم کیریئرز پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
stem.edu.pk

editor

Related Articles

Leave a Reply