امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات موجود ہیں، اس وقت جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ ایک دوستانہ ناکہ بندی کے تحت ہیں جس میں کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جا رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری صلاحیت اور اس کی قیادت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ حکمتِ عملی کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے اور اسی لیے ایران پر دباؤ جاری رکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے بلکہ امریکہ کی مذاکراتی صلاحیت “لامحدود” ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران فوری طور پر جنگی صورتحال ختم کر دے تو خطے کی تعمیر نو میں کم از کم 20 سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ جنگی تباہی کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی بھی فریق یہ نہیں چاہتا کہ چند سال بعد دوبارہ اسی نوعیت کی جنگ کا سامنا کیا جائے، اس لیے سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے سخت موقف بھی دہرایا کہ ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی سے پانچ ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے یہ فیصلہ امریکی فوجی حکمتِ عملی میں تبدیلی اور عالمی سطح پر نئی ترجیحات کے تحت کیا گیا ہے۔