مقاصد مکمل ہونے تک کارروائی جاری رکھیں گے ، ٹرمپ کا ایران سے جلد پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

مقاصد مکمل ہونے تک کارروائی جاری رکھیں گے ، ٹرمپ کا ایران سے جلد پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد کے مکمل حصول تک اس تنازع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر اس مرحلے پر ایران کے معاملے کو ادھورا چھوڑ دیا گیا تو یہی مسئلہ چند برس بعد دوبارہ زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے بروقت ایران کو نہ روکا ہوتا تو اسرائیل اور یورپ شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے تھے۔

اپنی تقریر میں ٹرمپ نے ایران کی عسکری اور سیاسی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور کمانڈ اسٹرکچر شدید کمزور ہو چکا ہے، جبکہ اعلیٰ قیادت کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پہلی اور دوسری سطح کی قیادت ختم ہو چکی ہے، اور یہ وہ عناصر تھے جنہوں نے ہزاروں مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کیے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل بحران شدت اختیار کر گیا، قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے زیادہ بات کرنا اس وقت تک پسند نہیں کرتے جب تک وہاں امریکی اہداف مکمل نہ ہو جائیں۔ ان کے بقول ایران کا معاملہ پہلے ہی نمٹا لیا جانا چاہیے تھا، لیکن ماضی کی امریکی قیادتیں ایسا نہ کر سکیں۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں تیل سے بھرے تقریباً 400 بحری جہاز موجود ہیں، اور اگر یہ راستہ مکمل طور پر کھل جائے تو عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

فلوریڈا میں عشائیے سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اس وقت ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں قیادت کے لیے بھی کوئی مؤثر متبادل سامنے نہیں آ رہا۔ انہوں نے اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ویتنام میں 19 سال، عراق میں 12 سال تک موجود رہا، جبکہ ایران کے معاملے میں صرف چند ہفتوں کی کارروائی پر سوال اٹھانا قبل از وقت ہے۔ ٹرمپ کے مطابق موجودہ حکمت عملی کا مقصد دیرپا استحکام کو یقینی بنانا ہے

editor

Related Articles