امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک انتہائی اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو واضح اور قطعی الفاظ میں آگاہ کر دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اس وقت تک دوبارہ کوئی نئی جنگ شروع نہیں کرے گا جب تک ایرانی افواج یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے امریکی فوجیوں کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا۔
فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ کشیدگی کا فوجی حل نکالنے کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستے تلاش کرنے کو ترجیح دے رہی ہے اور وہ خطے میں کسی بھی نئی اور وسیع پیمانے کی جنگ کا حصہ بننے کی بالکل خواہشمند نہیں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اب روایتی فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور سیاسی پیش رفت کے ذریعے تنازع کے مستقل خاتمے کے حامی بن کر ابھرے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کا مؤقف ہے کہ اگر امریکی افواج پر کوئی ‘مہلک حملہ’ نہیں ہوتا تو واشنگٹن وسیع پیمانے پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے مکمل گریز کرے گا، جبکہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ نئے معاہدے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پسِ پردہ سفارتی کوششیں ہر حال میں جاری رکھی جائیں گی۔
امریکا ایران تعلقات
امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ سال 2018 میں جب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تو دونوں ممالک کے درمیان شدید معاشی اور سیاسی کشیدگی کا آغاز ہوا تھا جسے ‘بھرپور دباؤ’ کی پالیسی کا نام دیا گیا۔
اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں متعدد بار ایسے نازک مواقع آئے جہاں دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ اپنے عوامی اجتماعات میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کی ‘نہ ختم ہونے والی جنگوں’ سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ موجودہ پالیسی اسی پرانے مؤقف کا تسلسل دکھائی دیتی ہے جہاں امریکا اب براہِ راست تصادم سے بچنے کی مہم پر گامزن ہے۔
پسِ پردہ سفارتی رابطے اور موجودہ صورتحال
سفارتی ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس اس وقت پاکستان کے علاوہ خلیجی ممالک بالخصوص عمان اور سوئٹزرلینڈ کے سفارتی چینلز کے ذریعے ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔
مزید برآں امریکی وزارتِ دفاع کے اندر بھی یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں 10000 سے زیادہ امریکی فوجیوں کی موجودگی کا مقصد صرف دفاع اور دہشتگردی کا خاتمہ ہے، نہ کہ کسی نئی جنگ کا آغاز۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے مشیروں کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ خطے کے دیگر اتحادیوں کو بھی یہ پیغام پہنچا دیں کہ امریکا ان کی دفاعی مدد تو کرے گا لیکن ان کی خاطر کسی نئی جنگ میں براہِ راست نہیں کودے گا۔
ٹرمپ کی نئی حکمتِ عملی
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی اس رپورٹ کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ‘امریکا فرسٹ’ یعنی سب سے پہلے امریکا کے بنیادی اصول پر مبنی ہے۔
وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ امریکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے جو امریکی عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
ایران کے لیے پوشیدہ پیغام
یہ رپورٹ ایران کے لیے ایک ’پوشیدہ پیغام‘ بھی ہے، ایک طرف تو یہ ایران کو یقین دہانی کراتی ہے کہ امریکا اپنی طرف سے جنگ میں پہل نہیں کرے گا، لیکن دوسری طرف یہ ایک سخت ترین وارننگ بھی ہے کہ اگر کسی 1 امریکی فوجی کو بھی نقصان پہنچا تو امریکا کا ردِعمل انتہائی ہولناک ہوگا۔
یہ حکمتِ عملی دراصل جنگ کے خطرے کو ٹالنے اور ایران کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ایک سوچی سمجھی سفارتی چال بھی دکھائی دیتی ہے۔