بشریٰ بی بی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان 26 نمبر چونگی سے ریڈ زون کی طرف روانہ ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق بشریٰ بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ اسلام آباد کے سیکٹر جی 11 پہنچ چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں اختلافات کی وجہ سے احتجاجی مقام کا تعین مشکل ہوگیا ہے۔ بشریٰ بی بی نے عمران خان کی متبادل احتجاجی مقام پر رضامندی کے باوجودبشریٰ بی بی نے ماننے سے انکار کر دیا۔ بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ بعض سازشی عناصر ڈی چوک کے بجائے احتجاج روکنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں ہر صورت ڈی چوک جانے کی ہدایت کی ہے اور کارکنان کسی دوسرے مقام پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام ہیں۔
مرکزی قیادت دھرنے کے حتمی مقام کے تعین میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں حکومتی تجاویز اور احتجاجی لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات کے بعد عمران خان نے بشریٰ بی بی اور پارٹی قیادت کے لیے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کے ویڈیو پیغام میں حکومتی تجاویز میں سے ایک پر اتفاق کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا تھا کہ ڈی چوک پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دو بار اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت دی گئی تھی اور اگر احتجاج جاری رہا تو حکومت دفعہ 144 نافذ کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات اٹھا سکتی ہے۔