کوئٹہ میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ سوئی گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بعض علاقوں میں سوئی گیس کی لوڈ منیجمنٹ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھریلو صارفین کے علاوہ تندور اور ہوٹلوں میں گیس کے کم پریشر کی شکایات بڑھ گئی ہیں، جس سے کھانا پکانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
اس وقت کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جا رہا ہےاور شہری مہنگے داموں گیس سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔ ناشتہ بھی مشکل سے تیار کیا جا رہا ہے کیونکہ گیس کی کمی کے باعث چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔
سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں سوئی گیس پائپ لائنز کے متعدد منصوبے مکمل کیے گئے ہیں تاکہ پریشر کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
تاہم صارفین کا مطالبہ ہے کہ شدید سرد موسم سے قبل گیس پریشر میں بہتری لائی جائے۔