سابق وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطالبات حل کرنا آسان نہیں ہوگا، اور نومئی کے واقعات سے متعلق اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی جائے گی۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومتی وفد کی دو یا تین ملاقاتوں کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کوئی پیشرفت ہو رہی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن عالمی معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں، ان میں ملٹری کورٹس سے متعلق کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے، کیونکہ پاکستان میں مارشل لا نہیں ہے اور آئین کے تحت ملٹری کورٹس کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوتے ہیں اور ان سزاؤں پر تنقید کرنے والے ممالک کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ ملٹری کورٹس سے سزائیں آئین اور قانون کے مطابق دی جا رہی ہیں۔
سیاست کے حوالے سے ایک سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان میں گھٹیا سیاست کا آغاز 2014 کے دھرنوں سے ہوا تھا، جس کے ذریعے انتشار اور افراتفری کی سیاست پھیلائی گئی، اور یہ ایک ہی طریقہ کار اور ذہنیت کا نتیجہ ہے۔