سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری، الاؤنسز میں بڑا اضافہ

سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری، الاؤنسز میں بڑا اضافہ

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے عدالت کے ملازمین کے الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

اس فیصلے کے تحت عدالت کے ملازمین کے جوڈیشل اور یوٹیلیٹی الاؤنس میں موجودہ بیسک سیلری کے 50 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی منظوری کے بعد آفس آڈر جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نئے الاؤنسز کا اطلاق وفاقی آئینی عدالت کے تمام ملازمین پر فوری طور پر ہوگا۔ تاہم، حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اضافی الاؤنسز غیر معمولی چھٹی کے دوران قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن نے باضابطہ آفس آرڈر جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اخراجات وفاقی آئینی عدالت کے مالی سال 26-2025 کے مختص بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا فیصلہ، پاکستان بھی امریکی ایف-16 ریڈار سسٹمز اپ گریڈیشن معاہدے میں شامل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمین کی برطرفی اور غیر حاضری سے متعلق متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے وزارتِ تجارت کے سابق ملازم ارسلان احمد کی برطرفی کے خلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقدمہ نئے سرے سے فیصلے کے لیے ٹربیونل کو واپس بھیج دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اہم قانونی سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’اگر کسی ملازم کو برطرف ہی کرنا ہے تو اس کی غیر حاضری کو چھٹی میں بدلنے کی کیا منطق ہے؟‘۔

درخواست گزار ارسلان احمد کو ڈیوٹی سے غیر حاضری کی بنیاد پر سروس سے برطرف کیا گیا تھا، جبکہ ان کا موقف تھا کہ اہلیہ کی شدید علالت اور کورونا کے باعث پروازوں کی بندش کی وجہ سے وہ بروقت جوائننگ نہیں دے سکے تھے۔

سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ برطرفی کے ساتھ ہی درخواست گزار کی غیر حاضری کے دورانیے کو بغیر تنخواہ کی چھٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جو کہ قانونی طور پر برطرفی کے جواز کو ختم کر دیتا ہے۔

تحریری فیصلے میں وفاقی حکومت کے متضاد مؤقف پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے پہلے ٹربیونل میں اسے ایک ڈپٹی سیکریٹری کی غلطی قرار دیا، لیکن سپریم کورٹ میں تسلیم کیا کہ یہ تبدیلی سیکریٹری کامرس کی منظوری سے ہوئی تھی۔

Related Articles