ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا فیصلہ، پاکستان بھی امریکی ایف-16 ریڈار سسٹمز اپ گریڈیشن معاہدے میں شامل

ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا فیصلہ، پاکستان بھی امریکی ایف-16 ریڈار سسٹمز اپ گریڈیشن معاہدے میں شامل

امریکی فضائیہ نے ایف-16 فائٹنگ فالکن طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی طویل مدتی تکنیکی معاونت اور انجینیئرنگ کے لیے نارتھروپ گرومن سسٹمز کارپوریشن کے ساتھ 488 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اہم عالمی معاہدے میں پاکستان کو بھی شراکت دار ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

رواں ہفتے جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس نئے معاہدے کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے بیڑے میں شامل طیاروں کے ریڈار سسٹمز کو جدید ترین معاونت فراہم کی جائے گی۔ یہ معاہدہ 31 مارچ 2036 تک جاری رہے گا اور اس میں طیاروں کے اہم ’اے پی جی-66‘ اور ’اے پی جی-68‘ ریڈار سسٹمز کی فعالیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

فارن ملٹری سیلز پروگرام اور شراکت دار

یہ معاہدہ امریکی فارن ملٹری سیلز پروگرام کے تحت کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بحرین، مصر، عراق، اردن، جنوبی کوریا اور مراکش سمیت 20 سے زیادہ اتحادی ممالک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان امریکا و ایران میں ثالثی کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، ترجمان دفترِ خارجہ

میری لینڈ میں انجام دیے جانے والے اس کام کا مقصد اتحادی ممالک کے پاس موجود ایف-16 طیاروں کی آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے۔ مالی سال 2026 کے آغاز پر اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 2.64 ملین ڈالر کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔

دفاعی تعاون میں اضافہ

واضح رہے کہ یہ حالیہ پیش رفت اس سے قبل دسمبر 2025 میں جاری ہونے والے 686 ملین ڈالر کے مجوزہ پیکج کا تسلسل ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو جدید ترین ’لنک-16‘ ٹیکٹیکل ڈیٹا لنکس، کرپٹوگرافک آلات اور جدید ایویونکس سے لیس کرنا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔

پاکستان اور ایف-16 کا دیرینہ تعلق

پاکستان کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں ایف-16 طیارے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 1980 کی دہائی سے شروع ہونے والا یہ دفاعی تعاون اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں امریکا نے پاکستان کے موجودہ بیڑے کی دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

چونکہ پاکستان ان طیاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے استعمال کرتا ہے، اس لیے ان کی بروقت مرمت اور ریڈار سسٹمز کی اپ گریڈیشن ہمیشہ سے ایک اہم ضرورت رہی ہے۔

دفاعی سفارت کاری اور علاقائی توازن

2036 تک کے اس طویل مدتی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن خطے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ ریڈار سسٹم کسی بھی لڑاکا طیارے کی ’آنکھ اور کان‘ ہوتے ہیں، لہٰذا 488 ملین ڈالر کے اس منصوبے سے پاکستانی شاہینوں کی دشمن کو دور سے شناخت کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

دسمبر 2025 کے 686 ملین ڈالر کے پیکج اور اب اس حالیہ معاہدے سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک، امریکا دفاعی تعلقات ایک بار پھر مستحکم ہو رہے ہیں، جو علاقائی امن اور توازنِ قوت برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے۔

Related Articles