پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے دو اراکین نےمذاکرات سے قبل اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ، ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے 2 بڑے مطالبات سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان سے ملاقات کرنے والوں میں بیرسٹر علی ظفر اور سلیمان اکرم راجا شامل تھے، مذاکرات سے قبل حتمی مشاورت مکمل کر لی گئی، بانی پی ٹی آئی نے قیدیوں کی رہائی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت کی۔
ملاقات میں سلیمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر کھڑے ہیں مذاکرات کی کامیابی کے لئے پرامید ہوں ، مذاکراتی کمیٹی کے اراکین اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے۔
بعد ازاں وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ پی ٹی آئی کو طاقت کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا، کیونکہ پارٹی اب ایک نظریاتی جماعت بن چکی ہے اور یوتھ کے دلوں میں راج کرنا محبت کی انتہا ہے۔
فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ کے کیسز کو جھوٹے الزامات کی سیریز کا حصہ قرار دیتے کہا کہ توشہ خانہ کیسز کی سزا معطل ہو چکی ہے اور امید ہے کہ اس کیس کا فیصلہ بھی پہلے چار کیسز کی طرح ہوگا۔
فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ وہ خالد خورشید کی سزا کی مذمت کرتے ہیں، کیونکہ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ عدالتیں کنٹرول ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی بنچ سے عوام کی امیدیں پوری نہیں ہو رہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، عمران خان کے اس بیان پر، جس میں انہوں نے کہا کہ جب تک کارکنان رہا نہیں ہوں گے، وہ اپنی رہائی کی بات نہیں کریں گے، فیصل چوہدری نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر آزاد جوڈیشل کمیشن اور رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیان اور تصویر پر غیر اعلانیہ پابندی کی مذمت کی جاتی ہے، اور ان کا کہنا تھا کہ بانی کی رہائی ان کے لیے اہم ہے، وہ چاہتے ہیں کہ جھوٹے کیسز میں عمران خان کی جلد رہائی ہو اور انہیں عملی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، کیونکہ وہ ملک کو سیاسی، معاشی عدم استحکام اور دہشت گردی سے نجات دلا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج سے شروع ہورہا ہے۔