لوکل موبائل فون مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نے موبائل فون کی مہنگائی کے بارے میں دعویٰ کو مفروضہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین مظفر پراچہ نے واضح کیا کہ موبائل فون کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس عائد ہونے کے باعث قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امپورٹس کے بند ہونے کی وجہ سے موبائل فون مہنگے ہوئے تھے، مگر اب جب کہ امپورٹس بحال ہوچکی ہیں، قیمتیں واپس کم ہوگئی ہیں۔ رواں مالی سال میں پاکستان میں 2.5 کروڑ موبائل فون تیار کیے گئے ہیں۔
مظفر پراچہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستان موبائل فون کی برآمدات شروع کردے تو قیمتوں میں مزید کمی آسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تین سے چار سال میں پاکستان 10 سے 15 ارب ڈالر کے موبائل فون برآمد کرسکتا ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔