وزیرِاعظم شہباز شریف کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گئے، دورے کے دوران وزیرِاعظم کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اعلیٰ عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے سیکیورٹی فورسز اور شہداء کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت اعلیٰ عسکری حکام شریک ہوئے، اس کے علاوہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزراء بھی اجلاس میں موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور موجودہ چیلنجز سے آگاہ کیا،اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی اور خواجہ آصف نے بھی شرکت کی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور انہی کی بدولت ملک میں بالخصوص بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔
دریں اثناوزیرِاعظم نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی بلاجواز اور تکبر پر مبنی جارحیت کے مقابلے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کی پالیسی اپنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ بالغ، محتاط اور منصفانہ رہا ہے جسے عالمی برادری نے بھی سراہا ہے وزیرِاعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپریشن غضب الحق مکمل عزم کے ساتھ جاری ہے جس کا مقصد بے گناہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا اور افغان طالبان سے منسلک دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد ٹھکانوں اور ان کے معاون ڈھانچوں کو نشانہ بنانا ہےانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
وزیرِاعظم نے دوست ممالک کے طلبہ کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے فوجی سفارت کاری اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک ذمہ دار اور توازن قائم رکھنے والا ملک کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے،اس موقع پر وزیرِاعظم کے ہمراہ وفاقی وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ، وزیرِ اطلاعات اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان بھی موجود تھے۔
اس سے قبل کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج پہنچنے پر وزیرِاعظم کا استقبال فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا جو مسلح افواج کے سربراہ اور دفاعی امور کے سربراہ کے طور پر وہاں موجود تھے۔