اسرائیل کیجانب سے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

اسرائیل کیجانب سے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حالات بدستور کشیدہ ہیں اور اسرائیل کی جانب سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں نے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 828 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بمباری اور کارروائیاں جاری ہیں,  اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر سے جنگ بندی کا اعلان موجود ہے لیکن زمینی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔

غزہ کے مختلف علاقوں خصوصاً خان یونس اور دیر البلح میں وقفے وقفے سے حملوں، ڈرونز کی پروازوں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اہم سیکیورٹی اجلاس منسوخ کر کے محدود مشاورت شروع کر دی ہے جبکہ فوجی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ نئی جنگ تقریباً ناگزیر ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی کنٹرول کی حدود بڑھا کر تقریباً 59 فیصد علاقے تک پھیلا دی ہیں۔

دوسری جانب مصر میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں جہاں امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت حماس سے 281 دن میں مرحلہ وار ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں امداد اور تعمیرِ نو کو ہتھیاروں کی حوالگی سے مشروط کیا گیا ہے جسے فلسطینی گروہوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

حماس اور دیگر تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا معاملہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور قبضے کے خاتمے سے مشروط ہونا چاہیے، انسانی امداد کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ، 14 افراد شہید

رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اسرائیل کی جنگ کی دھمکیاں سیاسی دباؤ بڑھانے اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہیں۔

اسرائیلی فوج پر مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور طویل فوجی خدمات کے باعث اہلکار تھکن کا شکار ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق خطے میں صورتِ حال بدستور غیر یقینی ہے اور ایک بڑی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ ایک نئے منصوبے کے تحت غزہ میں انسانی امداد، تعمیر نو اور سرحدی گزرگاہوں کے کھلنے کو حماس کی مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کی شرط سے جوڑا گیا ہے تاہم حماس سمیت دیگر فلسطینی تنظیموں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مکمل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

واضح رہے کہ غزہ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار 608 تک پہنچ چکی ہے جبکہ تازہ حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

editor

Related Articles