پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اندرون ملک انٹرنیٹ سروسز کوتیز اور بلا تعطل بنانے کے لیے لوکل پیئرنگ اور انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس ریگولیشنز 2026 کو حتمی شکل دے کر نافذ کر دیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق ملک کے اندر موجود انٹرنیٹ ٹریفک اب زیادہ تر لوکل پیئرنگ اور انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے ذریعے روٹ کی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقامی صارفین کو پاکستان میں موجود ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز تک رسائی زیادہ تیز اور آسان ہو۔
ترجمان پی ٹی اے کے مطابق اگر بین الاقوامی انٹرنیٹ کیبلز میں کسی قسم کی خرابی یا بندش بھی ہو جائے تو مقامی ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے اندرون ملک انٹرنیٹ سروسز جاری رہ سکیں گی۔
نئی پالیسی کے تحت عالمی پیئرنگ پوائنٹس پر انحصار کم کیا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی خطرات میں کمی آئے۔ اس کے ساتھ انٹرنیٹ کی لاگت کم کرنے اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق مقامی انٹرنیٹ ٹریفک اب لوکل ایکسچینج پوائنٹس سے گزرے گی ۔پاکستان میں ہوسٹ ہونے والی ویب سائٹس اور ایپس مقامی صارفین کو تیز رفتار رسائی فراہم کریں گی ۔ کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک لگانے سے پہلے لائسنس یافتہ اداروں کو پی ٹی اے کو آگاہ کرنا ہوگا جبکہ ڈیٹا سیکیورٹی اور صارفین کی معلومات کی رازداری ہر ادارے کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے
اگر انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے درمیان کسی بھی قسم کا تنازع پیدا ہوتا ہے تو اس کا حتمی فیصلہ پی ٹی اے کرے گا، جو تمام فریقین کے لیے لازمی ہوگا۔