سینئر صحافی زاہد گشگوری نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت مکمل ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں لیکن کسی نہ کسی وجوع کی بناء پر اس کیس کا فیصلہ گزشتہ روز تیسری مرتبہ مؤخر ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی زاہد گشگوری کا 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے حوالے سے کہنا تھا کہ گزشتہ روز تیسری مرتبہ اس کیس کا فیصلہ مؤخر کیا گیا ہے، جس کی سماعت مکمل ہوئے ہفتوں گزر چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس پانامہ کیس کی طرح ایک ہائی پروفائل کیس ہے جس میں گزشتہ تین سال کے عرصے میں 87 چھوٹی بڑی سماعتیں ہوئی ہیں اور یہ کیس 150 گھنٹے کی پروسیڈنگ پر مشتمل ہے۔
رانا ناصر جاوید اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت کرتے رہے ہیں اور گزشتہ روز کی سماعت کے حوالے سے اس ہائی پروفائل کیس کیسماعت کے لیئے کیس کا فیصلہ سننے کے لیئے دونوں پارٹیز سے کوئی آیا ہی نہیں۔ عمران خان کی جانب سے موقف سامنے آیا ہے 11 بجے دن کیس کی سماعت کا وقت مقرر تھا اور وہ دن 11 بجے پہنچ چکے تھے اور بشرٰی بی بی بھی پہنچ چکی تھی جب کے دوسری پارٹی کا موقف ہے کہ یہ عدالتی صوابدید ہے کہ وہ جب چاہے فیصلہ سنا دے۔
مزید زرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے تاخیر کی بنیادی وجہ یہ ہی ہےکہ دونوں پارٹیز ایک مذاکراتی عمل میں مصروف ہیں اور اگر عمران خان کو اس کیس میں سزا ہو جاتی ہے تو وہ ایک سال کے لیے جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے۔
سینئر صحافی زاہد گشگوری کا کہنا ہے کہ جو شواہد اس کیس میں پیش کیئے گئے ہیں انہیں دیکھا جائے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ عمران خان کو سزا ہو جائیگی اور یہ سزا 7 سال سے زائد ہو گی اور اگر عمران خان کو سزا 10 یا 14 سال ہوتی ہے تو پھر عمران خان کے لیئے آئیندہ ایک سال کے لیئے جیل سے باہر آنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چھ ماہ تک انکی ضمانت بھی نہ ہو سکے۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے مابین مذاکرات کا ایک تیسرا دور ہونے جا رہا ہے۔ اور دونوں اطراف یہ امید ہے کہ کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئیگا اور عمران خان جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔
صحافی زاہد گشگوری کا کہنا ہے یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ شاہد جج کو یرغمال بنایا گیا ہے تاہم انہوں نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ یہ بہت اچھے اور بلند پایہ شہرت کے مالک جج ہیں اور وہ اپنے مشاہدات کی بناء پر فیصلہ دینے والے ہیں اور شاہد یہ ہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ دونوں اطراف کو لگتا ہے کہ یہ کنٹرولڈ نہیں ہو گا فیصلہ جس طرح سے ماضی میں ہوتا رہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ پارٹیز کولگتا ہے کہ یہ ہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کے باعث فیصلے کو تاخیر دی جا رہی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین جمعرات کے روز تیسرے مذاکراتی دور میں بہت سی چیزیں کلیئر ہو جائیگی کہ آیا 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آجائے گا یا فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کے حوالے سے بھی رولنگ آ سکتی ہے۔ سینئر صحافی زاہد گشگوری کا کہنا ہے کہ رواں ہفتہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی ہفتے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے کیس کے حوالے سے بھی فیصلہ آ سکتا ہے اور انہیں بھی سزا ہو سکتی ہے اور یہ تینوں بڑے کیسز اور انکے فیصلے ملک کے سیاسی منظر نامے کو بڑی حد تک تبدیل کر سکتے ہیں۔