راولپنڈی: پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔
حالیہ عرصے میں پاکستان میں افغان سرزمین سے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاک فوج کو مزید چیلنجز کا سامنا ہے۔ دہشتگردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوششیں بڑھ گئی ہیں، اور یہ دہشتگرد نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔
ایک بار پھر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچا ہے۔
پاک فوج نے11 جنوری 2025 کو شمالی وزیرستان کے ضلع دوسالی میں دو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے دوران چھ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جب کہ دو دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا۔ اسی دوران شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں بھی ایک اور آپریشن کیا گیا، جس کے دوران تین دہشتگردوں کو ہلاک اور دو دہشتگردوں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ ان آپریشنز میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود، اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا، جن میں AK-47، M4، اور Drangunov شامل ہیں۔
قبل ازیں 9 دسمبر 2024 کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں ایک اور انٹیلی جنس آپریشن کے دوران دو دہشتگردوں کو ہلاک اور ایک دہشتگرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس آپریشن میں بھی غیر ملکی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جن میں M16-A2، M4، اور AK-47 شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے افغان فوج کو 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے تھے، جن میں سے 300,000 انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑے گئے تھے۔ پینٹاگون کے مطابق امریکہ نے 2005 سے 2021 تک افغان فوج کو 18.6 ارب ڈالر مالیت کا سامان فراہم کیا تھا۔ افغان عبوری حکومت کے تحت یہ ہتھیار ٹی ٹی پی جیسے دہشتگرد گروپوں کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان تمام حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے بھی محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے۔ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں موجود ہتھیاروں کا غلط استعمال خطے میں دہشت گردی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جس سے پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔