نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے کام کرنا ہوگا، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پشاور میں خیبرپختونخوا کے سیاسی قائدین سے ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، خطے میں امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آرمی چیف نے سیاسی قائدین سے خطاب میں کہا کہ ہماری پالیسی صرف اور صرف پاکستان ہے۔ افغانستان ہمارا برادر پڑوسی اسلامی ملک ہے اور پاکستان افغانستان سے ہمیشہ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ افغانستان سے صرف فتنہ الخوارج کی افغانستان میں موجودگی اور سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے پر اختلاف ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک وہ اس مسئلے کو دور نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 خوارج ہلاک، 2 گرفتار

آرمی چیف نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی فتنہ الخوارج کی پاکستان کے کسی بھی علاقے میں عملداری ہے، صرف انٹیلیجینس کی بنیاد پر ٹارگیٹڈ کاروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا فساد فی العرض اللّٰہ کے نزدیک ایک بہت بڑا گناہ نہیں ہے؟۔ ریاست ہے تو سیاست ہے، خدا نخواستہ ریاست نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم سب کو بلا تفریق اور تعصب، دہشت گردی کے خلاف یک جا کھڑا ہونا ہوگا۔ جب ہم متحد ہو کر چلیں گے تو صورتِ حال جلد بہتر ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن ان غلطیوں کو نہ ماننا اور ان سے سبق نہ سیکھنا اُس سے بھی بڑی غلطی ہے۔ عوام اور فوج کے درمیان ایک خاص رشتہ ہے۔ اس رشتے میں کسی خلیج کا جھوٹا بیانیہ بنیادی طور پر بیرون ملک سے ایک مخصوص ایجنڈے کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر سب پارٹیوں کا اتفاق حوصلہ مند ہے مگر اس پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *