کنیکٹیکٹ میں بھارتی قونصل خانہ جنرل نیو یارک کی جانب سے قونصلر کیمپ کے انعقاد کا مقصد بھارتی کمیونٹی کو پاسپورٹ، ویزا اور دستاویزات کی تصدیق کی خدمات فراہم کرنا تھا۔
سکھ علیحدگی پسندوں نے کیمپ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بھارتی قونصل خانوں کی جانب سے سکھوں کے خلاف سرحد پار جبر کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر اعتراض کیا
جن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اور نیو یارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنن کے خلاف قتل کی سازش شامل ہے۔
مظاہرین نے بھارت کے خلاف نعرے لگائے، بینرز آویزاں کیے ،بیرون ملک مقیم سکھ، بالخصوص کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں بھارت کی جانب سے ٹارگٹ کلنگز اور سرحد پار جبر کے حوالے سے شکایات کرتے رہے ہیں
اہم کیسز میں 2023 میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اور امریکا میں گرپتونت سنگھ پنن کے خلاف ناکام سازش شامل ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق وینکوور میں بھارتی قونصل خانے کے عملے (ایک را افسر) نے نجر کے بارے میں انٹیلی جنس اکٹھی کی اور اسے لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک ہینڈلرز کے ساتھ شیئر کیا
سکھ گروپس بھارتی حکام اور را اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ نگرانی، دھمکیاں اور تاریخی شکایات موجود ہیں۔
بھارت انسداد دہشت گردی کے نام پر خالصتان علیحدگی پسندی کو نشانہ بنا رہا ہے، نجر کیس کا ٹرائل تاحال پری ٹرائل مرحلے میں ہے جبکہ کینیڈا حساس انٹیلی جنس کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔