مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث پاکستان میں آٹو پارٹس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں خصوصاً ٹویوٹا گاڑیوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
انڈس موٹر کمپنی کی حالیہ بریفنگ، جسے مالیاتی ادارے ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے، کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری کے لیے سپلائی چین کے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری گاڑیوں کی تیاری کے لیے بڑی حد تک درآمدی سی کے ڈی (CKD) کٹس اور پرزہ جات پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سمندری راستوں پر ممکنہ خطرات آٹو پارٹس کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو متاثر کر سکتی ہے جس کے باعث شپنگ میں تاخیر اور ترسیل کے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ چونکہ پاکستانی کار ساز کمپنیاں اپنے بیشتر پرزے سمندری راستوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتی ہیں، اس لیے یہ شعبہ علاقائی صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
انڈس موٹر کمپنی کی انتظامیہ کے مطابق اگر شپنگ کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو گاڑیوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کی آمد میں تاخیر، بندرگاہوں پر رش اور مال برداری کے اخراجات میں اضافے جیسے عوامل پیداواری عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کار ساز ادارے عموماً درآمدی پرزوں کا محدود اسٹاک رکھتے ہیں، اس لیے سپلائی میں معمولی تعطل بھی فیکٹریوں کی پیداوار میں رکاوٹ یا عارضی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب کمپنی کی جانب سے نئے ماڈلز اور پروڈکٹ اپ ڈیٹس پر غور جاری ہے، تاہم موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث ان ماڈلز کی لانچنگ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
آٹو انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹوموبائل سیکٹر پر عائد ٹیکسوں کو معقول بنایا جائے تاکہ صنعت کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق اس وقت بعض گاڑیوں کی کیٹیگریز پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے جسے کم کر کے 18 فیصد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اس کے علاوہ آٹو مینوفیکچررز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی آٹو پالیسی 2026 سے 2031 تک کے لیے جلد متعارف کرائی جائے تاکہ صنعت کو واضح پالیسی فریم ورک میسر آ سکے۔