نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کی تقریب حلف برداری کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ 20جنوری کو دوسری مدت صدارت کا حلف اٹھا ئیں گے، البتہ واشنگٹن میں موسم کی تاریخی شدت کی پیشگوئی کےباعث صدر ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب اب کیپٹل ہل کی عمارت کے اندر ہوگی، موسم کی شدت کے باعث شرکاء کی تعداد بھی متاثر ہونے کا امکان، واشنگٹن میں رش بڑھ گیا۔
اس تبدیلی کےباعث حلف برداری کی تقریب کے لئے مدعو مہمانوں کو تازہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
حلف برداری کی تقریب کے بعد پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں بطور 47ویں امریکی صدر دوبارہ واپسی ہو گی۔
حلف برداری کے دن وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور اس کے علاوہ موسیقی کی پرفارمنسز بھی ہوں گی، پریڈ بھی ہو گی اور شام کے وقت متعدد دعوتیں بھی ہوں گی۔
تقریبِ حلف برداری کیا ہے؟
برطانوی میڈیا کے مطابق حلف برداری کی تقریب باضابطہ طور پر ایک صدر کے دور کا خاتمہ اور دوسرے کے آغاز کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔
یہ حکومتی رہنماؤں کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں اقتدار کی منتقلی کا سب سے ہائی پروفائل حصہ ہوتا ہے۔
تقریب کے اہم ترین حصے کے دوران نومنتخب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہیں اور یہ الفاظ کہتے ہیں: ‘میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں ایمانداری کے ساتھ امریکی صدر کے عہدے پر عمل کروں گا اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق امریکی آئین کی حفاظت، حفاظت اور دفاع کروں گا۔‘
اگرچہ انھوں نے نومبر میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن ٹرمپ یہ الفاظ کہنے کے بعد باضابطہ طور پر 47ویں صدر بن جائیں گے۔
جے ڈی وینس بھی باضابطہ طور پر نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
اس تقریب میں میوزیکل پرفارمنس اور تقاریر بھی شامل ہیں جس کے دوران ٹرمپ خطاب کریں گے اور اگلے چار سالوں کے لیے اپنے اہداف کا اعلان کریں گے۔
تقریبِ حلف برداری میں کون کون شرکت کرے گا؟
مقامی اور وفاقی حکام کو توقع ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں تقریبا دو لاکھ افراد جمع ہوں گے جن میں ٹرمپ کے حامیوں کے ساتھ ساتھ مظاہرین بھی شامل ہوسکتے ہیں، بہت سے امریکی سینیٹرز اور کانگریس کے ارکان کے علاوہ آنے والی انتظامیہ کے مہمان بھی شرکت کریں گے۔
ٹرمپ، وینس اور ان کے اہل خانہ کے بعد سب سے اہم حاضرین سبکدوش ہونے والے صدر اور نائب صدر ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صدر بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کوان کے شریکِ حیات جل بائیڈن اور ڈگ ایمہوف کے ساتھ دیکھیں گے، ہیرس نومبر کے انتخابات میں ٹرمپ سے ہار گئی تھیں۔
سابق صدور اور خواتینِ اوّل بھی اکثر افتتاحی تقریب میں موجود ہوتی ہیں۔
توقع ہے کہ اس سال اس میں جارج اور لورا بش اور براک اوباما بھی شامل ہوں گے، تاہم مشیل اوباما مبینہ طور پر اس میں شرکت نہیں کریں گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی شام ہونے والی ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں عالمی رہنما بھی شرکت کریں گے، پاکستان کی نمائندگی امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کریں گے، تقریب میں پاکستان کی کئی سیاسی شخصیات اور پاکستانی امریکنز بھی شریک ہوں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ریپبلکن کی جانب سے کئی ٹیک ٹائٹنز کو افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جیسے کہ ارب پتی ایلون مسک، جیف بیزوس اور مارک زکربرگ شرکت کریں گے جبکہ چینی سوشل میڈیا کمپنی ٹک ٹاک کے سربراہ شو چیو بھی شریک ہوں گے۔