سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی ) و سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کیلئے رحمت کے بجائے زحمت بن چکی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق لاڑکانہ پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک میں 40 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ، 2 کروڑ 65 لاکھ بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں ، سندھ کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے اربوں روپے کہاں خرچ کیے جاتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام صابن، گھی اور دیگر اشیاءپر اپنی جیب سے 25 فیصد ٹیکس دیتے ہیں ہیں، عوام کو اس حکومت سے کوئی فائدہ نہیں، حکومت عوام کے لئے رحمت کے بجائے زحمت بن چکی ہے، جب میں وزیر خزانہ تھا تو انکم ٹیکس 15 فیصد کیا جو اب بڑھ کر 49.50 تک پہنچ گیا ہے ۔
سیکرٹری جنرل اے پی پی کا کہنا تھا کہ وطن عزیز پاکستان میں بجلی وگیس سری لنکا،انڈونیشیا، ملائشیا، ساوتھ افریقہ، کینیا اورایتھوپیا سے بھی مہنگی ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنی حکومت میں نیب، نیب کھیل کر سیاست کی اور اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کو جو سزا ہوئی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے، عدالت کی طرف سے بشریٰ بی بی کو سزا دینا سمجھ سے بالاتر ہے حالانکہ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں تھا، ایک طرف پی ٹی آئی بیرونی ملک سے لابنگ اور دوسری جانب حکومت سے مذاکرات بھی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا مثبت عمل دخل نہیں رہا، واشنگٹن چاہے تو ہمیں آئی ایم ایف کے قرضوں سے نکلوا سکتا ہے، سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی، پنجاب میں 13 سال سے مسلم لیگ ن اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن حکومتوں کو عوام کا کوئی اداراک نہیں۔
سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں کی حکمرانی ناکام ہو چکی ، ن لیگ کو چا ہیے تھا کہ 8 فروری کے جنرل انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرتی، ملک میں مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ عام اشیاءعوام کی پہنچ سے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہیں۔