امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہونے کی توقعات پیدا ہوگئی ہیں جس کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 54 سینٹ یعنی 0.68 فیصد کمی کے بعد 78.31 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 46 سینٹ یعنی 0.60 فیصد کمی کے بعد 76.14 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ میں اگست کے معاہدوں کی قیمت بھی کم ہوکر 75.06 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ دونوں بڑے عالمی معیار کے خام تیل کے نرخ گزشتہ روز کے مقابلے میں مزید نیچے آئے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے کے بعد تیل کی عالمی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز پر سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوگئیں۔ سعودی عرب کے جھنڈے والے تین تیل بردار جہازوں سمیت متعدد ٹینکرز نے آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کیا جن میں لاکھوں بیرل خام تیل موجود تھا۔
مشرق وسطیٰ میں رکا ہوا لاکھوں بیرل خام تیل عالمی مارکیٹ میں آنے کی صورت میں سپلائی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔ ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ میں واپسی کی توقعات بھی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہیں۔
سرمایہ کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کتنی تیزی سے معمول پر آتی ہے۔ اگر تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت مستقل بنیادوں پر بحال رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پر نظر بھی برقرار ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری بعض کشیدگیوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ تاہم امن معاہدے اور سپلائی بحالی کی خبروں نے فی الحال تیل کی قیمتوں کو نیچے کی جانب دھکیل دیا ہے۔