امریکی خفیہ فائلیں عوام کےلیےجاری ہونے کے بعد ایلین بحث دوبارہ تیز

امریکی خفیہ فائلیں عوام کےلیےجاری ہونے کے بعد ایلین بحث دوبارہ تیز

امریکی محکمہ دفاع نے ایک غیر معمولی شفافیت پروگرام کے تحت غیر شناخت شدہ فضائی مظاہر یعنی یواےپیز(UAPs )سے متعلق 162 نئی فائلیں ڈی کلاسیفائی کر کے عوام کے لیے جاری کر دی ہیں۔ اس اقدام کو’پرسیو‘نامی پبلک ٹرانسپرنسی پروگرام کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد برسوں پرانی رپورٹس اور مشاہدات کو عوامی سطح پر لانا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مواد (war.gov/ufo) پر دستیاب کیا گیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 120 دستاویزات، 28 ویڈیوز اور 14 تصاویر شامل ہیں۔ ان فائلوں میں مختلف دہائیوں پر محیط مشاہدات درج ہیں، جن میں اپولو 12 اور اپولو 17 مشنز کے دوران سامنے آنے والے واقعات، 1947 کے روزویل واقعے سے متعلق ایف بی آئی میمو، اور جدید انفراریڈ کیمرہ فوٹیج شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گوگل کا بڑا اعلان، گوگل ہیلتھ اور فٹ بٹ ایئرکا فٹنس ٹریکر بینڈ متعارف

کچھ ویڈیوز میں ایسے پراسرار روشن اجسام دکھائے گئے ہیں جو اچانک 90 ڈگری زاویے پر تیزی سے مڑتے نظر آتے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں انڈو پیسفک ریجن میں ایک فٹبال نما نامعلوم شے کا بھی ذکر ہے۔

حکام کے مطابق ان تمام فائلوں کو سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد جاری کیا گیا ہے، تاہم ان میں سے زیادہ تر مواد کو مکمل طور پر ڈی کوڈ یا تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دستاویزات اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایف 35 پائلٹ ہیلمٹ، آسمان میں چلتا ہوا جدید ترین کمپیوٹر سسٹم

دستاویزات میں ’چمکدار اشکال‘، ’’روشنی والے گول دائرے‘‘ اور ’’سینسر بلیک آؤٹس‘‘ جیسے مشاہدات شامل ہیں، جو تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈیٹا سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہو سکتا ہے، لیکن ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا۔

سوشل میڈیا پر اس انکشاف کے بعد شدید بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین اسے خلائی زندگی کے امکان کی طرف ایک بڑا اشارہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے محض نامعلوم قدرتی ۔یا تکنیکی مظاہر قرار دیتے ہیں۔یہ پیش رفت ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر رہی ہے کہ کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں یا پھر کچھ ایسا موجود ہے جو ابھی انسانی سمجھ سے باہر ہے۔

editor

Related Articles