ایف 35 لائٹننگ ٹو کے پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ایوی ایشن ٹیکنالوجی کی ایک انتہائی حیران کن مثال سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف حفاظتی ہیلمٹ نہیں بلکہ پورے طیارے کا کنٹرول اور معلوماتی نظام ہے جو سیدھا پائلٹ کی آنکھوں کے سامنے کام کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہیلمٹ کی قیمت تقریباً چار لاکھ ڈالر تک پہنچتی ہے۔ اسے کولنز ایرو اسپیس نے ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ ہر ہیلمٹ مخصوص پائلٹ کے لیے الگ بنایا جاتا ہے، جس میں سر کی ساخت، آنکھوں کی پوزیشن اور فاصلہ انتہائی باریکی سے ناپا جاتا ہے تاکہ دیکھنے اور فوکس کرنے میں کوئی کمی نہ رہے۔
اس ہیلمٹ کی سب سے بڑی خاص بات اس کا 360 ڈگری ویو سسٹم ہے۔ طیارے کے ارد گرد لگے چھ انفراریڈ کیمرے مسلسل ویڈیو فیڈ بھیجتے ہیں جنہیں ہیلمٹ میں ایک ساتھ جوڑ کر پائلٹ کے سامنے دکھایا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پائلٹ نیچے زمین کو بھی ایسے دیکھ سکتا ہے جیسے جہاز شفاف ہو۔اس کے علاوہ تمام اہم معلومات جیسے پرواز کا ڈیٹا، ٹارگٹنگ سسٹم اور سینسر ریڈنگز براہ راست پائلٹ کی نظر کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سے روایتی کاک پٹ اسکرینز کی ضرورت کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس ہیلمٹ میں نائٹ وژن سسٹم اور ہیڈ ٹریکنگ ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پائلٹ صرف کسی سمت دیکھ کر ہی ہدف کو لاک کر سکتا ہے۔
ہیلمٹ کی ساخت بہت ہلکی مگر مضبوط ہے اور اس میں کیولر اور کاربن فائبر جیسے جدید میٹریلز استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ڈیزائن اسے پائیدار بھی بناتا ہے اور آرام دہ بھی۔
چونکہ یہ نظام انتہائی حساس اور باریک حساب پر مبنی ہے، اس لیے چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی بھی اس کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔