وفاقی بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے تاہم بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم اور متوسط آمدن والے لاکھوں ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا جبکہ زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
22 لاکھ روپے سالانہ یعنی تقریباً 1 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ یا اس سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کے ٹیکس سلیب میں کوئی کمی نہیں کی گئی جس پر ملازمین کی بعض تنظیموں اور معاشی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح ایک فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ ٹیکس 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے حصے پر لاگو ہوگا۔ اسی طرح 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے ملازمین پر 11 فیصد انکم ٹیکس کی شرح بھی برقرار رکھی گئی ہے جبکہ ان پر 6 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی بدستور نافذ رہے گا۔ اس طرح تقریباً 50 ہزار سے ایک لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازمین کو ٹیکس میں کوئی اضافی رعایت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب حکومت نے 9 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے زیادہ آمدن والے چار ٹیکس سلیبز میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن (تقریباً 1 لاکھ 83 ہزار سے 2 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ) رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔
اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن (تقریباً 2 لاکھ 67 ہزار سے 3 لاکھ 42 ہزار روپے ماہانہ) رکھنے والوں کے لیے ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن (تقریباً 3 لاکھ 42 ہزار سے 4 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ) رکھنے والے ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن، یعنی تقریباً 4 لاکھ 67 ہزار سے 5 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔
حکومت نے مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کم آمدن والے طبقے کو محدود ریلیف دیا ہے جبکہ ٹیکس میں سب سے زیادہ فائدہ ان افراد کو پہنچے گا جو پہلے ہی نسبتاً زیادہ تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں ٹیکس پالیسی کو تنخواہ دار طبقے کے اندر بھی غیر متوازن قرار دیا جا رہا ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حقیقی ریلیف اس طبقے کو ملا ہے جو مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے یا ان افراد کو جن کی آمدن پہلے ہی نسبتاً زیادہ ہے