ڈڈیال، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مہران کے گھر چھاپہ، ڈرون، اسلحہ، اسلام آباد پولیس کا سامان اور حساس الیکٹرانک آلات برآمد
Home - اہم خبریں - ڈڈیال، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مہران کے گھر چھاپہ، ڈرون، اسلحہ، اسلام آباد پولیس کا سامان اور حساس الیکٹرانک آلات برآمد
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میرپور کے علاقے ڈیڈیال میں ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق راولاکوٹ دھرنے میں موجود کالعدم کمیٹی کے کور کمیٹی ممبر خواجہ مہران کے ڈڈیا والے گھر پر مشکوک سرگرمیوں کی خفیہ اطلاع پر چھاپہ مارا گیا۔
اس اچانک کارروائی کے دوران تلاشی لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خواجہ مہران کے گھر سے ایک عدد جدید ڈرون، 12 بور کی گن معہ گولیاں، ایک عدد پسٹل، 4 یو ایس بیز، 1 لیپ ٹاپ اور اسلام آباد پولیس کے چوری شدہ ہیلمیٹ سمیت دیگر سرکاری سامان برآمد کر لیا ہے۔
🚨🚨 کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی ممبر خواجہ مہران کے گھر راولاکوٹ میں دھرنے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چھاپہ، گھر سے ڈرون، بارہ بور کی گن اور گولیاں ایک عدد پسٹل، اسلام آباد پولیس کے ہیلمیٹ اور دیگرسامان برامد، خواجہ مہران کے ملازم شاہد اسلم کے مطابق،… pic.twitter.com/fwd8Teum0a
چھاپے کے دوران حراست میں لیے گئے خواجہ مہران کے ملازم ’شاہد اسلم‘ نے تفتیش کے دوران ایسے لرزہ خیز اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے حقوق کی تحریک کا دعویٰ کرنے والوں کے بھیانک چہرے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
خواجہ مہران کے ملازم نے اعتراف کیا کہ راولاکوٹ دھرنے کے لیے روانہ ہونے سے قبل خواجہ مہران نے اپنے گھر پر 2 ایمبولینسز منگوائی تھیں، جنہیں وہ عام طور پر اسلحے کی غیر قانونی ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کے لیے استعمال کرتا ہے۔
ملازم کے بیان کے مطابق دھرنے میں جانے سے پہلے خواجہ مہران اپنے ساتھ 4 سے 5 عدد کلاشنکوفیں، 2 عدد 12 بور گنز، ڈبوں میں بند بے شمار گولیاں، گلیلیں، پتھر، کانچ کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں، 2 کلو چرس اور پیسوں سے بھرے ہوئے 2 بھاری پیکٹ اپنے ساتھ لے کر گیا، جو اسے ’لطیف ڈار‘ نامی شخص نے لا کر دیے تھے۔
ملازم شاہد اسلم نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ملزم اپنے ساتھ وہ شیلنگ گنز (آنسو گیس کے گن) بھی ایمبولینس کے ذریعے راولاکوٹ لے کر گیا ہے جو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے 29 ستمبر کے لانگ مارچ کے دوران ’پلاک پل‘ کے مقام پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے ان سے چھینی تھیں۔
مزید برآں ملازم نے بتایا کہ خواجہ مہران کے گھر پر یہ سارا غیر قانونی اسلحہ ہر وقت موجود رہتا تھا اور اس نے اپنی ذاتی حفاظت کے لیے 6 سے 7 اشتہاری ڈاکو اور نارکوٹکس (منشیات) مافیا کے خطرناک کارندے اپنے پاس ملازم رکھے ہوئے تھے، جن کی وہ پشت پناہی کر رہا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نے برآمد شدہ سامان قبضے میں لے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی مطالبات کی آڑ لے کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا سلسلہ گزشتہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات اور ریلیف پیکیج کے باوجود چند مخصوص عناصر دھرنوں اور لانگ مارچ کے ذریعے خون خرابہ اور انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں، جس کے باعث حکومت نے ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دیا تھا۔
ماضی میں 29 ستمبر کو پلاک پل کے مقام پر ہونے والے تصادم میں مظاہرین نے نہ صرف پولیس پر تشدد کیا تھا بلکہ ان کا سرکاری سامان اور شیلنگ گنز بھی چھین لی تھیں۔
موجودہ سال 2026 میں، جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان شرپسند عناصر کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، ڈڈیال میں خواجہ مہران کے گھر پر پڑنے والا یہ چھاپہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایمبولینس جیسے مقدس اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے نیٹ ورک کو کلاشنکوفوں، چرس اور بارود کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ گروہ کس حد تک منظم اور خطرناک کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
حقوق کی تحریک کے پیچھے عسکری نیٹ ورک کا انکشاف
ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی ممبر کے گھر سے کلاشنکوفیں، سرکاری ہیلمیٹ اور گلیلوں کے ساتھ ساتھ پیسوں کے پیکٹ برآمد ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی پرامن عوامی احتجاج نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ’شہری گوریلا جنگ‘ (اربنائزڈ ملٹنسی) کی تیاری تھی۔
لطیف ڈار کی طرف سے فنڈنگ (پیسوں کے پیکٹ) کی فراہمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس تخریب کاری کے پیچھے کوئی بڑا فنانشل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔
طبی گاڑیوں کا معاندانہ استعمال
اسلحہ اور منشیات کی ترسیل کے لیے ایمبولینس کا استعمال سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا اور سنگین اسٹرٹیجک چیلنج ہے۔ شرپسند عناصر جانتے ہیں کہ ناکوں پر ایمبولینسز کو عام طور پر بغیر تلاشی کے گزرنے دیا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک کا بے نقاب ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ اب سیکیورٹی اداروں کو انٹیلی جنس بیسڈ چیکنگ کا دائرہ کار تمام گاڑیوں تک بڑھانا ہوگا۔
جدید ٹیکنالوجی اور ڈرون کا خطرناک پہلو
گھر سے جدید ڈرون، لیپ ٹاپ اور 4 یو ایس بیز کا ملنا انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ اشیا ظاہر کرتی ہیں کہ کالعدم تنظیم کے لوگ صرف روایتی ہتھیاروں پر انحصار نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ سیکیورٹی اداروں کی نقل و حرکت کی جاسوسی (سرویلنس) اور دھرنے کے مقامات کی فضائی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے تھے، جس کا ڈیٹا ان یو ایس بیز میں موجود ہو سکتا ہے۔