شاہد آفریدی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے، اہم ملاقات

شاہد آفریدی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے، اہم ملاقات

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد سے ملاقات کی۔

شاہد آفریدی نے عاصم افتخار احمد کی دعوت پر اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں عالمی ادارے کے مختلف شعبہ جات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں اقوامِ متحدہ کے کردار بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ پائیدار ترقی اور عالمی تعاون کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

ملاقات کے دوران عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کا پرتپاک استقبال کیا اور پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ، شاندار آل راؤنڈ کارکردگی اور یادگار کھیل کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کی فلاحی سرگرمیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی سماجی خدمات نے محروم طبقات کی بہتری میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بڑا کریش ، 80 ڈالر سے نیچے گر گئیں

گفتگو کے دوران کھیلوں کے کردار پر بھی بات ہوئی۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ کھیل ممالک اور عوام کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے، امن، خیرسگالی اور باہمی احترام کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

انہوں نے شاہد آفریدی کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا جن میں سفارت کاری، عالمی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششیں شامل ہیں۔

اس موقع پر شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے دورے اور پرتپاک میزبانی پر سفیر عاصم افتخار احمد اور پاکستان مشن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا مشن عالمی سطح پر مکالمے اور تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بعد ازاں سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، پاکستان مشن کے افسران اور دیگر مہمان شریک ہوئے۔

یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیل اور سفارت کاری عالمی سطح پر روابط بڑھانے، مختلف اقوام کو قریب لانے اور امن و تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles