دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں سی ٹی ڈی کی جدید آلات اور ماہرین کی کمی کا انکشاف

پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے پاس جدید آلات نہ ہونے کے ساتھ ماہرین کی ٹیم بھی نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کی جانب سے محکمہ داخلہ کو لکھے گئے خط کی کاپی آزاد ڈیجیٹل کو موصول ہوگئی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ تفتیشی نظام میں تیزی لانے اور دہشت گردوں کے زیر استعمال جدید ٹیکنالوجی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کو مضبوط خطوط پر استوارکرنے کی ضرورت ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی ٹی کو 2013 میں قائم کیا گیا ہے لیکن تاحال ان کے پاس ماہرین کی ٹیم نہیں ہے جس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خط میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماہر تفتیشی افسران نہ ہونے سے سالوں سے ہزاروں کیسز زیر التوا ہے اور تفتیش کے عمل میں دشواری کا سامنا ہے۔ خط کے مطابق 2013 سے اب تک 3 ہزار سے زائد کیسز کی تفتیش باقی ہے۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سی ٹی ڈی کے پاس پیچیدہ کیسز میں تفتیش کے لیے درکار افسران بھی نہیں ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سی ٹی ڈی کو ٹیریزم انویسٹیگیشن افیسرز اور ٹیریر فنانسنگ انویسٹیگیشن آفیسرز بھرتی کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت موجود تمام تفتیشی افسران کو محکمہ پولیس سے عارضی بنیادوں پر تعینات کئے گئے اور ادارے کو انہی اہلکاروں پر چلایا جارہا ہے۔

خط کے مطابق موجودہ ملازمین کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور جدید جرائم پر قابو پانے کی قابلیت نہیں ہے۔ سائبر اسپیس ، ویب سائٹس، دہشت گردوں کی سائبر انفراسٹرکچر تک پہنچانا موجودہ وقت میں ممکن نہیں۔ حکومت 634 افسران کو بھرتی کرنے کی منظوری دے تاکہ درپیش مشکلات کم ہوسکے اور زیر التوا کیسز میں تیزی لانے کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ بھی ممکن ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کی جانب سے لکھے گئے خط پر محکمہ داخلہ نے کام مکمل کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں سمری تیار کرکے وزیر اعلیٰ کو جلد پیش کی جائے گی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد باقاعدہ طور پر ملازمین کی بھرتی کا عمل شروع ہوگا۔ ملازمین کو ابتدائی طورپر3 سالوں کیلئے عارضی بنیادوں پر بھرتی کیا جائے گا۔ بھرتی کئے جانے والے ملازمین کو ایم پی ون، جوکہ ٹو اورتھری سکیل کے مطابق ملازم رہیں گے۔ اس سلسلے میں جب ایڈیشنل  انسپکٹرجنرل سی ٹی ڈی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حکومت کو خط لکھا ہے کہ خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی میں اعلیٰ تربیت یافتہ آفیسرز بھرتی کرنے کی منظوری دی جائے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق اس وقت دہشت گرد پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگئے ہے، اس مقصد کیلئے قابل ترین آفیسرز کو بھرتی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق اس وقت سی ٹی ڈی کے پاس کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آشنا آفسیر نہیں ہے۔ اس لئے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *