ایران کی جانب سے بحرِ ہند میں واقع ایک نہایت اہم فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی دفاعی توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی تیل و گیس تنصیبات پر حملوں کا پیشگی کوئی علم نہیں تھا، اسرائیل نے ایسا غصے میں کیا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ڈئیگو گارسیا میں قائم مشترکہ امریکا اور برطانیہ کے فوجی اڈے کی طرف فائر کیے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ ایک میزائل دورانِ پرواز ہی ناکارہ ہو گیا، جبکہ دوسرے کو روکنے کے لیے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز سے جدید ایس ایم-3 انٹرسیپٹر میزائل فائر کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس میزائل کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا یا نہیں، اور نہ ہی واقعے کے درست وقت کی تصدیق کی جا سکی ہے۔
اس حساس معاملے پر فوری طور پر وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں برطانوی سفارت خانے اور برطانیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث اس واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال غیر واضح ہیں۔
ڈئیگو گارسیا بحرِ ہند میں واقع چاگوس جزائر کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور برطانیہ کے لیے ایک کلیدی فوجی اڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اڈہ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں فوجی آپریشنز کے لیے اسٹریٹجک مرکز سمجھا جاتا ہے، اور ماضی میں افغانستان جنگ اور عراق جنگ کے دوران بھی اہم کردار ادا کر چکا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران واقعی اس فاصلے تک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ عالمی دفاعی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔ معروف تجزیہ کار ماریو نوفال نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی اس کارروائی نے اس کے میزائل پروگرام کی حقیقی صلاحیت کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر 4000 کلومیٹر تک میزائل پہنچنے کی صلاحیت ثابت ہو جاتی ہے تو یہ ایران کے سرکاری دعوے (2000 کلومیٹر) سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایرانی میزائل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ کے بڑے حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ماریو نوفال نے کہا کہ اگرچہ کوئی میزائل ہدف پر نہیں لگا، لیکن ایران کا اسٹریٹجک پیغام واضح طور پر پہنچ گیا ہے، جو کسی بھی روایتی حملے سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اس پیش رفت کے بعد نیٹو کے رکن ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور سیکیورٹی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو یہ ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس میں دیگر عالمی طاقتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

