سوشل میڈیا کی آمدن پر ٹیکس کی تجویز، ٹیکس اکٹھا کیسے ہوگا؟ تفصیلات آگئیں

سوشل میڈیا کی آمدن پر ٹیکس کی تجویز، ٹیکس اکٹھا کیسے ہوگا؟ تفصیلات آگئیں

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 2026 کی منظوری کے لیے ترمیم شدہ رپورٹ ایوان میں پیش کر دی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے متعلق اہم ترامیم شامل کرتے ہوئے بل کو ترامیم کے ساتھ منظور کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے،  اسی طرح یوٹیوب سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی ڈالر آمدن جب بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان منتقل ہوگی تو اس پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔

قائمہ کمیٹی نے غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر 5 فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے جبکہ ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

مزید یہ کہ 20 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والوں کو فائنل ٹیکس نظام سے نکلنے کا اختیار دینے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کو بینکاری معلومات کا مرکزی ورچوئل ڈیٹا اسٹوریج قائم کرنے کا اختیار دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

مختلف شعبوں کو ریلیف اور ٹیکس استثنیٰ

کمیٹی نے پی آئی اے کے طیاروں کے لیے پرزہ جات کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ، جبکہ تجارتی جہازوں اور ٹینکرز کی مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس استثنیٰ کی سفارش کی ہے۔

پاکستان میں رجسٹرڈ ایئرلائنز کے لیے بھی طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز شامل کی گئی ہے۔

پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فنڈز کے لیے ٹیکس چھوٹ کی بعض شرائط نرم کرنے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے، جبکہ برآمدات کل کاروبار کے 80 فیصد سے زائد ہونے کی صورت میں مخصوص ٹیکس سے استثنا دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے درآمدی لگژری گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافے کی سفارش کی ہے۔

2000 سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کا نیا نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے، جس کے تحت ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں کے لیے سالانہ ٹوکن ٹیکس 20 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل طور پر مربوط اسٹیل یونٹس کے لیے رعایتی ٹیکس شرح کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔

ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم مزید سخت بنانے اور جعلی ٹیکس انوائسز جاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فائلرز اور نان فائلرز کیلئے ایف بی آر کا سخت فیصلہ ، نوٹس کی پہلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

فرضی انوائسز بنانے والوں پر انوائس مالیت کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ غیر مطابقت رکھنے والے ان پٹ ٹیکس کلیمز پر اضافی جرمانوں کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

کسٹمز قوانین میں سختی اور ڈیجیٹل اصلاحات

کسٹمز قوانین میں ترامیم کے تحت ضبط شدہ سامان کی نگرانی مزید سخت بنانے اور اسمگل شدہ سامان کی نقل و حرکت کی تعریف کو وسیع کرنے کی سفارش کی گئی ہے ، ان مقدمات میں فیس لیس سماعت اور ورچوئل کارروائی کو قانونی تحفظ دینے اور فیس لیس ایڈجوڈیکیشن متعارف کرانے کی تجویز بھی منظور جبکہ گوداموں میں چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے لیے پانچ سال قید تک سزا کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈیجیٹل انوائسنگ اور ایف بی آر اختیارات میں اضافہ

ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل انوائسنگ کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ایف بی آر کو الیکٹرانک انوائسنگ نظام میں مزید وسعت دینے کا اختیار ملنے کا امکان ہے۔

بڑے ریٹیلرز کے لیے ڈیجیٹل انضمام اور مانیٹرنگ کا دائرہ کار بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جبکہ 20 کروڑ روپے سے زائد کاروبار کرنے والے ریٹیلرز پر نئی شرائط لاگو کرنے کی تجویز شامل ہے۔

editor

Related Articles