آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں تنبیہ کی گئی ہے کہ فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق قوانین مزید سخت کیے جائیں گے، اور ایف بی آر کے نوٹس پر عمل نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔
فنانس بل کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس کی پہلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا ، نوٹس کی بار بار خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ 20 لاکھ روپے تک بڑھ سکتا ہے۔
یکم جولائی سے الیکٹرانک ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم نصب نہ کرنے پر کارروائی ہوگی ، ایف بی آر کی مانیٹرنگ سسٹم اور الیکٹرانک ٹیکس نظام کو خراب کرنے پر 5 سال کی قید کی سزا ہو سکے گی ، فیکٹریوں، کارخانوں اور دکانوں پر ایف بی آر کے مانیٹرنگ نظام کو توڑنے یا نقصان پہنچانے پر سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
فنانس بل میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکٹرانک نظام میں پہلی خرابی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، بار بار خرابی پر ہر مرتبہ دس دس لاکھ جرمانہ ہوگا، جب کہ الیکٹرانک نظام مقررہ مدت میں نصب کرنا لازمی ہے، سسٹم کی تنصیب کے بعد اس کے استعمال اور دیکھ بھال لازمی ہوگی۔
ایف بی آر 3 کروڑ روپے تک الیکٹرانک سسٹم نصب کرنے والوں کو ریبٹ دے گا، اور ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم کو غیر فعال بنانے پر قانونی کارروائی ہوگی، سسٹم لگانے یا خرابی پر کارروائی کا طریقہ کار یکم جولائی کو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا، اور یکم جولائی سے انکم ٹیکس ریٹرنز صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانا لازم ہوگا۔
فنانس بل کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن صرف آئرس کے ذریعے الیکٹرانک طور پر جمع کرانا لازمی ہوگا، کمپنیوں کے مالیاتی گوشوارے بھی مشین ریڈیبل فارمیٹ میں جمع ہوں گے، اب مکمل طور پر ریٹرنز الیکٹرانک جمع کرانے کی پابندی ہوگی۔
الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم قبول کرنے والوں کو ریوائزڈ ریٹرن کی سہولت ملے گی، الگورتھمک سیٹلمنٹ کے تحت ریٹرن پر کمشنر کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی، اسے اختیار کرنے والے ٹیکس دہندگان پر الگ جرمانہ اور سرچارج لاگو نہیں ہوگا۔
قبل ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آئندہ مالی سال یکم اکتوبر سے سوشل میڈیا پر دولت کی نمود و نمائش کرنے والے نان فائلرز کیخلاف بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔