پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا؟ ڈویلپمنٹ لیوی کیوں بڑھی، اہم راز کھل گیا

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا؟ ڈویلپمنٹ لیوی کیوں بڑھی، اہم راز کھل گیا

ملک میں پیٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے کی اصل وجہ سامنے آ گئی ہے جس کے بعد حکومتی مؤقف پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حکومت نے ڈویلپمنٹ لیوی میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اور اسی تناسب سے پیٹرول کی مجموعی قیمت بھی بڑھا دی گئی اس طرح پیٹرول کی قیمت میں جتنا اضافہ کیا گیا ہے اتنی ہی رقم پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں بھی بڑھائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی اصل یا ایکس فیکٹری قیمت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی یعنی درآمدی یا ریفائنری سطح پر قیمت تقریباً برقرار رہی تاہم مختلف ٹیکسز اور لیویز میں اضافے کے ذریعے صارفین پر بوجھ منتقل کیا گیا۔

 پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا تعین صرف بنیادی قیمت پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی عناصر شامل ہوتے ہیں جن میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز و ڈیلرز کے مارجنز شامل ہیں جو مجموعی قیمت کو بڑھا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کہاں ہیں؟صحت سے متعلق تشویشناک رپورٹ ،نئے انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ اضافے میں سب سے بڑا عنصر ڈویلپمنٹ لیوی ہے جسے حکومت ریونیو بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم ہوں اور ایکس فیکٹری ریٹ میں اضافہ نہ ہو تو صرف لیوی بڑھا کر قیمت میں اضافہ کرنا عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

 پیٹرول مہنگا ہونے کی وجہ عالمی منڈی کو قرار دینا مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ اصل اضافہ ٹیکسز خصوصاً ڈویلپمنٹ لیوی میں کیا گیا ہے۔

اس پالیسی کا مقصد ریونیو اہداف حاصل کرنا ہو سکتا ہے تاہم اس کے اثرات براہ راست مہنگائی میں اضافے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

editor

Related Articles