ملٹری ٹرائل کیس، مجرم سزا کا مستحق ہے، چاہے ٹرائل کہیں بھی ہوں، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس

ملٹری ٹرائل کیس، مجرم سزا کا مستحق ہے، چاہے ٹرائل کہیں بھی ہوں، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس

سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جرم کی سزا ملنی چاہیے چاہے اس کا ارتکاب چاہے جس نے  بھی کیا ہو اور جس بھی عدالت میں اس کا ٹرائل ہو رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملزم کی حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل

منگل کو یہ جسٹس جمال مندوخیل کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے 9 مئی 2023 کے فسادات میں ملوث فوجی عدالتوں کے ذریعے شہریوں کے خلاف مقدمے کو کالعدم قرار دینے کے 23 اکتوبر 2023 کے 5 ججوں کے حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت دوبارہ شروع کر رکھی ہے۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ میں جسٹس مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ جرم کس نے کیا ہے، اس کو سزا ملنی چاہیے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے، مقدمہ جہاں بھی (فوجی عدالتوں میں یا سویلین میں ) چلایا جائے‘۔ درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے منگل کو اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

فیصل صدیقی نے پیر کو سپریم کورٹ کے بینچ پر زور دیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ سزا پانے والے شہریوں کے معاملوں کو انسداد دہشتگردی کی عدالتوں (اے ٹی سی) میں منتقل کیا جائے جبکہ جیل کی سزا پوری کرنے والوں کو ماضی کا قصہ سمجھا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد شاہد زبیری نے درخواست گزار بشریٰ قمر کی نمائندگی کی جبکہ ریاست کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا کسی ممبرپارلیمنٹ نے آرمی ایکٹ کے خلاف اسمبلی میں آواز اٹھائی؟ جسٹس امین الدین کا استفسار

واضح رہے کہ گزشتہ سال 13 دسمبر کو سپریم کورٹ کے بینچ نے فوجی عدالتوں کو 9 مئی کے فسادات کے معاملوں میں حراست میں رکھے گئے 85 شہریوں کے محفوظ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ اس کے بعد فوجی عدالتوں نے ان 85 شہریوں کو مختلف فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے پر 2 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔ ایک ہفتہ بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سزا پانے والوں میں سے 19 کی رحم کی درخواستیں قبول کر لی گئی تھیں۔

پچھلے ہفتہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا تھا کہ اگر کسی ملزم پر جرم کا الزام لگایا گیا ہے تو ہائیکورٹ میں الزامات کو چیلنج کرنے کے لیے اپیل کا حق دیا جانا چاہیے۔ جنوری میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتی‘۔ سپریم کورٹ بینچ کے دیگر ججز نے بھی کیس کی گزشتہ سماعتوں کے دوران سول اور فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے طریقہ کار پر غور کیا ہے۔ جسٹس افغان نے جنوری میں ریمارکس دیے تھے کہ فوجی عدالت میں ہونے والے مقدمات سویلین عدالت میں ہونے والے مقدمات سے ملتے جلتے ہیں۔ اگلے ماہ جسٹس امین الدین نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک سویلین اور ایک فوجی اہلکار کی جانب سے کیے گئے ایک ہی جرم کا ٹرائل مختلف عدالتوں میں کیسے چلایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:’جس کا جتنا دل چاہتا ہے، ملک کوبدنام کرتا ہے‘، جسٹس امین الدین کے ریمارکس

سماعت کے آغاز پر جسٹس محمد علی مظہر نے کیسز کے بارے میں استفسار کیا جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ مجموعی طور پر 105 ملزمان فوجی ٹرائلز کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سے 20 کو رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اے اے جی رحمان نے ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن کی رحم کی درخواستیں قبول کر لی گئی تھیں ، کہا کہ مزید 19 افراد کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت 66 مشتبہ افراد جیلوں میں ہیں۔

فیصل صدیقی نے اس کے بعد اس بات پر بحث کی کہ امریکا میں ایک روایت ہے کہ دونوں فریقوں کو دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلے کی پیش کش کے قانون کے تحت ان کے کیس کو حل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کورٹ مارشل کا متبادل بھی موجود ہے۔ اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ جرم کس نے کیا ہے، اس کو سزا ہونی چاہیے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے مقدمہ جہاں بھی چلایا جاتا ہے؟۔

اس کے بعد فیصل صدیقی نے زور دے کر کہا کہ یہ فرق ’زمین اور آسمان کے درمیان فرق‘ کے مترادف ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک ٹرائل (سول کورٹ) آزاد ہے جبکہ دوسرا فوجی عدالت میں ہے‘۔ وکیل فیصل صدیقی نے دلیل دی کہ 9 مئی کے تشدد کے مقدمات صرف توڑ پھوڑ سے متعلق ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات میں عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جہاں ’پاکستان کا دفاع خطرے میں ہو‘۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو خط

فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد شاہد زبیری نے اپنے مؤکل قمر کی جانب سے اپنے دلائل پیش کرنا شروع کیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو ’اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی‘ سے آگاہ کیا تھا۔ فوجی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزاؤں کا اعلان کرتے ہوئے فوج نے کہا تھا کہ ’تمام مجرموں کو اپیل اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے‘۔ بعد ازاں سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی اور شاہد زبیری بدھ کو اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *