سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ بعض اوقات جھوٹے واقعات سے ملک کو بدنام بھی کیا جاتا ہے، جس کا جتنا دل چاہتا ہے ملک کو بدنام کرتا ہے، مختاراں مائی کیس ثابت نہیں ہوا لیکن ملک کی کتنی بدنامی کی گئی۔
بدھ کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کی جس میں اعتزاز احسن نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا کے منگل کو دیے گئے دلائل پر اعتراض کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ملٹری ٹرائل پر جسٹس امین الدین کے ریمارکس: آئین سے متصادم قانون برقرار نہیں رہ سکتا
بحت کے دوران اعتزازاحسن کے وکیل لطیف کھوسہ پیش ہوئے اور اپنے دلائل دیے، اس دوران اعتزاز احسن نے سلمان اکرم راجا کے دلائل پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجا بھی میرے وکیل ہیں، سلمان اکرم راجا نے کل جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، میں نے سلمان اکرم راجا کو ایسی کوئی ہدایت نہیں دی تھی۔
اعتزاز حسن نے مزید کہا کہ جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اعتراض شاید صرف آرٹیکل 63 اے والے فیصلے کے حوالے پر ہے، اس پر پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جسٹس منیب کے فیصلے کے صرف ایک پیراگراف سے اختلاف کیا تھا، کل دلائل ارزم جنید کی جانب سے دیے تھے اور ان پر قائم ہوں۔
جسٹس نعیم اختر افغان سے سلمان اکرم راجا کا مکالمہ
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میڈیا میں تاثر دیا گیا جیسے پتا نہیں میں نے کیا بول دیا ہے، آپ کے سوال کو سرخیوں میں رکھا گیا کہ عالمی قوانین میں سویلئنز کے کورٹ مارشل کی ممانعت نہیں۔
مزید پڑھیں:عمران خان کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو خط
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جو سوال پوچھا تو وہ سب کے سامنے ہے، سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں ہم بھی نہیں دیکھتے، سوشل میڈیا کو دیکھ کر نہ اثر لینا ہے نہ اس سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے بھی کہا کہ میڈیا کو بھی رپورٹنگ میں احتیاط کرنی چاہیے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میرے خلاف بہت خبریں لگتی ہیں بہت دل کرتا ہے جواب دوں لیکن میرا منصب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جواب دوں۔ اس پر سلمان اکرم راجا نے پھر کہا کہ بغیر کسی معذرت کے اپنے دلائل پر قائم ہوں۔
جسٹس امین الدین سلمان اکرم راجا سے کہا کہ سوال تو ہم صرف مختلف زاویے سمجھنے کے لیے کرتے ہیں، ہو سکتا ہے ہم آپ کے دلائل سے متفق ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا کیس فوجی عدالت میں جانا چاہئے، وفاقی وزیر قانون
اس موقع پر بیرسٹراعتزازاحسن نے کہا کہ جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہیں، جواد ایس خواجہ کی بعد میں دائر درخواست کو میرا کیس نمبر الاٹ کردیا گیا، لطیف کھوسہ نے اپنے پوری قوم کی نظریں اس کیس پر ہے، اس کیس کی وجہ سے سپریم کورٹ انڈر ٹرائل ہے۔
لطیف کھوسہ کے ریمارکس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ سپریم کورٹ انڈر ٹرائل نہیں ہے، عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، عدالتی فیصلوں کا تاریخ پھرجائزہ لیتی ہے، قانونی نکات پر دلائل شروع کریں۔ پہلے سیکشن 2 (1 ) ڈی کی قانونی حیثیت پر دلائل دیں، سیکشن 2 (1 ) ڈی کو 9 اور 10 مئی کے ساتھ مکس نہ کریں۔ پہلے ان سیکشن کی آزادانہ حیثیت کا جائزہ پیش کریں۔
اس پر لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، سیکشن 2 (1 ) ڈی برقرار نہیں رکھا جا سکتا، ملٹری کورٹس کی تشکیل کو تاریخی تناظرمیں دیکھنا ہوگا، قرآن پاک اور دین اسلام بھی عدلیہ کی آزادی کا ذکر موجود ہے۔ عدلیہ کی آزادی خلفائے راشدین کے دور میں بھی تھی، حضرت عمر عدلیہ اور حکومت کے سربراہ رہے وہاں دونوں علیحدہ نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کیخلاف 9 مئی اور جنرل فیض کیخلاف کیسز میں ثبوت اکٹھا کرلئے گئے، سرکاری ذرائع کا دعویٰ
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو یمن کا خلیفہ بنا کر بھیجا۔
لطیف کھوسہ کا عالمی عدالت انصاف کی رپورٹ کا حوالہ
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا عالمی عدالت انصاف کے ممبران کے ملک میں بھی دہشتگردی واقعات ہوتے ہیں؟ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ بالکل وہاں پر دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا اِن ممالک میں ملٹری املاک کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اس لطیف کھوسہ نے فوجی عدالتوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہا لیکن جسٹس جمال مندوخیل نے لطیف کھوسہ کو پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر بات کرنے سے روک دیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں زیرالتواہے جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ کیا آئی سی جے رپورٹ کا پارلیمنٹ نے جائزہ لیا؟ رپورٹ میں ملٹری ٹرائل پر اپیل کا حق دینے کا کہا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ لطیف کھوسہ صاحب! آپ اس رپورٹ پر پرائیویٹ ممبر بل لے آتے۔
یہ بھی پڑھیں:آئینی بینچ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کی درخواست خارج، سابق چیف جسٹس کو جرمانہ
