افغانستان سے سرکردہ دہشتگرد پکڑا گیا، گرفتاری میں پاکستان کی مدد کے شکرگزار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

افغانستان سے سرکردہ دہشتگرد پکڑا گیا، گرفتاری میں پاکستان کی مدد کے شکرگزار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ’سرکردہ دہشتگرد‘ کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ افغانستان میں کابل بم دھماکے میں ملوث سرکردہ دہشتگرد پکڑا گیا ہے، اس سرکردہ دہشتگردی کی گرفتاری میں مدد دینے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں، گرفتاردہشتگرد کوامریکہ لایا جا رہا ہے جہاں اسے امریکی انصاف کی تیز تلوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساڑھے 3 سال پہلے داعش نے افغانستان میں 13 امریکیوں کو قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کایوکرین کو دی جانے والی تمام فوجی امداد معطل کرنے کا حکم

بدھ کو اقتدار میں واپس آنے اور صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ  امریکا پھر سے میدان میں آ گیا، ملک کو پھر قابل فخر بنائیں گے، جو ملک ہم پر ٹیرف لگائے گا اسے بھرپور جواب دیں گے، بیوروکریٹس نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کیں تو انہیں فارغ کر دیں گے، امریکا کی شہریت اب وہی حاصل کرسکے گا جو گولڈ کارڈ کی قیمت ادا کرےگا۔ ہم نے ڈیڑھ ماہ میں اتنا کام کیا جتنا دیگر پچھلے 4 سالوں میں نہ کر سکے، میں نے 6 ہفتوں میں 100 ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جو بائیڈن کی حکومت امریکی تاریخ کی بدترین حکومت تھی، جو اپنے دور اقتدار میں انڈوں کی قیمت تک کم نہ کر سکی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ٹیک کمپنیوں اربوں ڈالر آئی ٹی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں، ہم ایسا نظام لا رہے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، افراطِ زر کو شکست دینے کی بھرپور کوششیں کریں گے، گزشتہ چند دنوں میں امریکا میں ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، ہمارا جذبہ اور ارادے پہلے سے کئی زیادہ پختہ اور مضبوط ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کنینڈا اور میکسیکو کو اربوں ڈالر کی سبسڈی دی مگر اب نہیں دیں گے، جو ملک امریکا پر ٹیرف لگائے گا، اس کو بھرپور جواب دیں گے اور اس پر بھی ٹیرف لگائیں گے۔ میکسیکو اور کنینڈا سے آنے والی منشیات سے ہمارے شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کے روّیے سے امریکا یورپ میں تنہا، چین کی اہمیت بڑھ جائے گی، عرفان صدیقی

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں لاکھوں تارکین وطن سرحد کراس کرتے تھے۔ تارکین وطن کو روکنے کے لیے جنوبی سرحد پر فوج تعینات کر دی گئی ہے، گولڈ کارڈ کا اجرا کر رہے ہیں جو جلد پیش کر دیا جائے گا، جسے امریکا کی شہریت چاہیے اسے گولڈ کارڈ کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ گولڈ کارڈ کے اجرا کے بعد امریکا کی معیشت میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی راہ میں حائل بیوروکریٹس کو نکال دیں گے، بیوروکریسی سے پھر کہہ رہا ہوں کہ اگر انہوں نے ہمارے منصوبوں پر عمل نہ کیا تو انہیں فارغ کر دیں۔ امریکاکو ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ بہتر بنائیں، وفاقی ملازمین روزانہ دفتر آئیں یا ملازمت چھوڑ دیں، ہم نے جرائم کا خاتمہ کیا جس پر ڈیموکریٹس خوش نہیں، ہم نے غیر ضروری رولز اینڈ ریگولیشنز کو ختم کر دیا ہے، امریکی عوام کا پیسہ غیر ضروری امداد پر خرچ کیا گیا، ڈیموکریٹس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کو تاریخ کا بدترین صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں ساری سوئنگ اسٹیٹس میں کامیابی حاصل کی ہے، امریکا دوبارہ مضبوط ہونے کی طرف گامزن ہے، ہماری روح، فخر اور اعتماد واپس بحال ہو گیا ہے۔

امریکی صدر نے ڈبلیو ایچ او کو کرپٹ ترین ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے پروگرام سے بھی نکلنے کی کوشش کریں گے، میری قیادت میں امریکا ترقی کرے گا، ملکی توانائی سیکٹر کو فروغ دے کر توانائی کی صورت حال کو بہتر کریں گے۔ امریکا میں مرد اور عورت صرف دو جنس ہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی خواب کبھی نہیں رک سکتا‘۔ میں نے ملک کو نئی شکل دینے کے اپنے انقلابی منصوبوں پر ابھی سے شروعات کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے 6 ہفتوں کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ امریکی حکومت کو نئی شکل دینے اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی پولرائزنگ کی کوششوں کو تیز کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین جنگی تنازع ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرینی صدر زیلنسکی پر برس پڑے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے 43 دنوں میں اس سے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جتنی سابقہ انتظامیہ نے 4 سال یا 8 سال میں حاصل کی ہیں یہ تو ابھی ہماری شروعات ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکی خواب ناقابل تسخیر ہے اور ہمارا ملک واپسی کی راہ پر گامزن ہے جس کا مشاہدہ دنیا نے کبھی نہیں کیا ہوگا۔

امریکی صدر نے افغانستان سے امریکی انخلا کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف ہیں، خوشی کی بات ہے کہ افغانستان میں کابل دھماکے میں ملوث ٹاپ دہشتگرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے امریکا لایا جا رہا ہے، اسے امریکی قوانین کا سامنا کرنا پڑے گا، اس ٹاپ دہشتگرد کی گرفتاری پر پاکستان کے شکرگزار ہیں، کالعدم تنظیم داعش نے افغانستان میں 3 سال قبل 13 امریکیوں کا قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکا کرنے والا گرفتار دہشت گرد کو امریکا کے انصاف کی تلوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس حملے نے افغانستان میں امریکا کی طویل ترین جنگ کا المناک اختتام کیا، جس میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 170 افغان مارے گئے تھے جو طالبان کے قبضے کے بعد کابل سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں، جو کسی بھی صدر کی ایک گھنٹہ اور 49 منٹ کی سب سے طویل تقریر تھی، انکشاف کیا کہ ’آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس ظلم کے ذمہ دار سرفہرست دہشتگرد کو گرفتار کر لیا ہے اور وہ اس وقت امریکی انصاف کی تیز تلوار کا سامنا کرنے کے لیے امریکا لایا جا رہا ہے۔

مختصر وقفے اور تالیاں بجانے کے بعد انہوں نے اس عفریت کو پکڑنے میں مدد کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ یہ متاثرہ خاندانوں کے لیے بہت بڑا دن ہے۔ یہ ان 13 خاندانوں کے لیے ایک بہت اہم دن ہے، جن کو میں واقعی بہت اچھی طرح جانتا ہوں، جن کے بچوں کو قتل کیا گیا تھا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *