سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین عرفان صدیقی نے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین جیسے اتحادیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک جاری رکھا جیسا انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ کیا تو امریکا کو یورپی یونین جیسے اتحادیوں سے الگ تھلگ ہونا پڑے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران تلخ کلامی ہوئی تھی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی کو کہا کہ آپ روس کے ساتھ 3 سال سے جاری جنگ کے دوران امریکی حمایت پر ’شکر گزار نہیں‘ ہیں اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ولادیمیر زیلنسکی پر ’توہین آمیز رویہ ‘ رکھنے کا الزام لگایا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادیمیر زیلنسکی کو کہا کہ آپ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہے ہیں۔ ’آپ تیسری جنگ عظیم کا جوا کھیل رہے ہیں، اور آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے ملک کے لیے بہت خطرناک اور توہین آمیز ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روّیے کے حوالے سے کہا کہ امریکی صدر نتائج پر غور کیے بغیر کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کی آخری مدت صدارت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آئندہ ووٹوں کی کوئی فکر نہیں ہے اس لیے وہ جو چاہیں کر رہے ہیں لیکن عالمی سطح پر اس رویے کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے۔
عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ٹرمپ کا تنازع اپنے اتحادیوں کے بارے میں امریکا کے رویے کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ ان کی (ٹرمپ اور زیلنسکی کی) گفتگو کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اگر امریکا کھلے عام اپنے اتحادیوں میں سے کسی ایک کی توہین کر سکتا ہے، جس کی اس نے برسوں سے حمایت کی اب ’دوسرے ممالک امریکا پر اعتماد نہیں کر سکیں گے‘۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا تیزی سے ایک ایسی سمت بڑھ رہا ہے جو اسے مکمل طور پر الگ تھلگ کر دے گا، انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکا تنہا ہو سکتا ہے اور یورپ کا رخ چین کی جانب موڑ سکتا ہے۔ عرفان صدیقی نے متنبہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے روّیے کے نتیجے میں ’یورپی یونین، چین اور دیگر ممالک کے ایک ساتھ آنے‘ کی صورت میں نکلے گا جبکہ امریکا الگ تھلگ ہو جائے گا۔