اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ میلونی نے جی سیون اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے اصرار کیا تھا۔ میلونی نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ جارجیا میلونی نے ان سے تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی اور وہ صرف ہمدردی کی وجہ سے تصویر کے لیے تیار ہوئے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر اٹلی میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
جارجیا میلونی نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ ٹرمپ کے بیان پر حیران ہیں اور یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ وہ اور نہ ہی اٹلی کسی سے کچھ مانگتے ہیں۔
میلونی نے مزید کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ امریکی صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس انداز میں رویہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ مغرب کے مخالفین کے ساتھ زیادہ نرمی دکھائی جاتی ہے۔
اس معاملے کے بعد اٹلی میں سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ٹرمپ کے بیان کو اٹلی کے لیے توہین آمیز قرار دیا اور اپنے طے شدہ امریکی دورے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب ماضی میں میلونی اور ٹرمپ کے تعلقات نسبتاً دوستانہ سمجھے جاتے تھے، تاہم مختلف عالمی معاملات پر دونوں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
حالیہ بیان بازی نے امریکا اور اٹلی کے تعلقات میں ایک نئی سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے جبکہ میلونی کے سخت ردعمل کو اٹلی میں قومی وقار کے مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔