ٹرمپ کا بھارت کو ’جہنم‘ قرار دینے پر ہنگامہ، بھارتی اپوزیشن آگ بگولہ، نریندر مودی کو رسوا کرنے والا کمزور ترین وزیراعظم قرار دیدیا

ٹرمپ کا بھارت کو ’جہنم‘ قرار دینے پر ہنگامہ، بھارتی اپوزیشن آگ بگولہ، نریندر مودی کو رسوا کرنے والا کمزور ترین وزیراعظم قرار دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس اور اسے ’جہنم کا گڑھا‘ قرار دیے جانے کے بعد بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت، انڈین نیشنل کانگریس، مودی سرکار پر برس پڑی ہے۔

کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی پر بزدلی کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر سفارتی سطح پر امریکی صدر کے سامنے اٹھائیں اور سخت احتجاج ریکارڈ کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا بھارت پراعتماد متزلزل، پاکستان خطے کا حقیقی ’پاور پلیئر‘ بن گیا، ایشیا ٹائمز

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک جارحانہ بیان میں کانگریس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیان نے 140 کروڑ بھارتیوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور یہ قومی وقار پر حملہ ہے۔

واضح رہے کہ ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے کہا کہ یہاں پیدا ہونے والا بچہ فوری طور پر شہری بن جاتا ہے اور پھر وہ اپنا پورا خاندان بھارت کے کسی ’جہنم کے گڑھے‘ سے لے آتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ بھارتی تارکین وطن کو ’لیپ ٹاپ والے غنڈے‘ کے طور پر بھی بیان کیا ہے اور کہا ہےکہ انہوں نے ’ہمارے پرچم کو روند ڈالا‘ ہے۔

جماعت نے وزیراعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کے سامنے خود کو ایک ’کمزور لیڈر‘ ثابت کر رہے ہیں، جو بھارتی تارکینِ وطن اور ملک کی ساکھ پر ہونے والے پے در پے حملوں کے باوجود خاموش ہیں۔

کانگریس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت کے خاتمے کی بات کرنا اور بھارتیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی سطح پر بھارت کی سفارتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے مزید کہا کہ حکومت کی مسلسل خاموشی کا خمیازہ ملک کو بین الاقوامی بے عزتی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اگرچہ بھارتی حکومت نے تاحال ان الزامات یا ٹرمپ کے مبینہ ریمارکس پر کوئی باقاعدہ سرکاری ردِ عمل جاری نہیں کیا، تاہم اپوزیشن کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:گودی میڈیا میں صفِ ماتم، پاکستان کی سفارتی جیت پر مودی سرکار اور بھارتی میڈیا شدید خفت کا شکار، امریکی سفارتکار نے کھری کھری سنا دیں

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی ان کا رویہ ’پہلے امریکا‘ کی پالیسی کے تحت بھارت سمیت کئی اتحادی ممالک کے خلاف کافی سخت رہا ہے۔

امریکی صدر نے نہ صرف تجارتی ٹیرف کے معاملے پر بھارت کو نشانہ بنایا ہے بلکہ ویزا پالیسیوں اور تارکینِ وطن کے حقوق پر بھی کڑی پابندیاں عائد کرنے کے اشارے دیے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو ماضی میں ٹرمپ کے ساتھ اپنی دوستی کا بھرپور پرچار کرتے رہے ہیں، اب ایک مشکل صورتحال میں پھنس گئے ہیں جہاں ایک طرف امریکا کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہیں تو دوسری طرف اندرونِ ملک اپوزیشن کے اس بیانیے کا مقابلہ کرنا ہے کہ مودی ملک کا وقار بچانے میں ناکام رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *