سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تیسری سہ ماہی کے دوران کیپیٹل مارکیٹ سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ عالمی بحران اور امریکا ایران جنگ کے باوجود پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگی حالات کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر نمایاں رہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تیرہ فیصد جبکہ امریکی سافٹ ویئر اسٹاک میں تئیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئی اور مجموعی طور پر ساڑھے چودہ فیصد کمی دیکھی گئی۔
تفصیلات کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس جنوری میں ایک لاکھ 91 ہزار 13 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم سہ ماہی کے اختتام پر یہ انڈیکس کم ہو کر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار سات سو تینتالیس پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔
اسی طرح اسٹاک مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری (مارکیٹ کیپٹلائزیشن) انیس کھرب انہتر ارب روپے سے کم ہو کر سولہ کھرب تریپن ارب روپے رہ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیرملکی سرمایہ کاروں نے ایک سو گیارہ ارب اکسٹھ کروڑ روپے مالیت کے حصص فروخت کیے۔
دوسری جانب مقامی سرمایہ کاروں نے مارکیٹ کو سہارا فراہم کیا اور ایک سو گیارہ ارب پچپن کروڑ روپے کی خالص خریداری کی۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل بینک ایک سو بیاسی ارب بیالیس کروڑ روپے کی ٹریڈنگ کے ساتھ سرفہرست رہا ہے۔