ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ جاری تناؤ اور حالیہ مذاکرات پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے امریکی ناکہ بندی کے اعلان کو ایک غیر مہذب اور جاہلانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے کے قابل نہیں ہوگا تو یہ ناممکن ہے کہ دیگر ممالک وہاں سے سکون سے گزر سکیں۔
ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے انکشاف کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن دونوں فریقین کے درمیان اب بھی ایک وسیع خلیج حائل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے توقع کی تھی کہ ایران 2 سے 3 دن میں ہتھیار ڈال دے گا، لیکن ایران نے 40 دن کی جنگ برداشت کر کے دشمن کو شکست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو وینزویلا کی طرح کمزور سمجھنے کی غلطی کی اور نیٹو کو شامل کرنے کی کوشش میں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایرانی اسپیکر نے دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مائن سویپرز اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھیں، ورنہ انہیں یقینی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تنازع کے دوران ایران نے 170 سے 180 دشمن ڈرونز اور ایک جدید امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا، جو ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران مستقل امن کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی معاہدے کے لیے ٹھوس ضمانتیں ضروری ہیں، کیونکہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا۔
ڈاکٹر باقر قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پیر کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔ ایرانی قیادت کا یہ سخت لہجہ دراصل مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔
ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ معاشی ناکہ بندی کے باوجود عسکری طور پر اس قدر طاقتور ہے کہ وہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن (آبنائے ہرمز) کو مفلوج کر سکتا ہے۔ ایف-35 طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، اگر درست ہے، تو یہ عالمی دفاعی توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جس نے امریکا کو جنگ بندی پر مجبور کیا ہے۔