چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنے عزائم سے باز نہیں آ رہا اور گزشتہ برس کی ناکامی کے باوجود نئی مہم جوئی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدام کیا تھا تاہم اسے اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ملی۔ ان کے بقول بھارت اب ایک مرتبہ پھر ’’آپریشن سندور 2‘‘ جیسے بیانات کے ذریعے خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے عالمی برادری کو بھی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کو مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا رہے تاہم پاکستانی قوم اور ریاستی ادارے ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی مفادات اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کے باوجود حکومت نے بجٹ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی معیشت کو مستحکم کرنا اور عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال بھی بجٹ سازی کے عمل میں ایک اہم عنصر رہی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئندہ بجٹ، گلگت بلتستان کے انتخابات اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف اہم قومی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ رائے تھی کہ بعض تحفظات دور ہونے تک بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کی جائے تاہم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ کی یقین دہانی کے بعد اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ تمام تحفظات کو جلد دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔